غزہ میں زندگیاں بچانے کا موقع تیزی سے ختم ہوتا جارہا ہے

,

   

غزہ : 6 اگست (یو این آئی ) بین الاقوامی فلاحی ادارے ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں زندگیاں بچانے کا موقع تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری اور جبری قحط سے یومیہ 28 بچے قتل ہو رہے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور 24 گھنٹوں میں مزید 83 فلسطینی شہید ہو گئے، شہید ہونے والوں میں 58 امداد کے منتظر فلسطینی بھی شامل ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں امدادی ٹرک الٹنے سے 20 فلسطینی جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ادھر اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری اور جبری قحط سے یومیہ 28 بچے قتل ہو رہے ہیں۔فلسطینی سول ڈیفنس نے اقوام متحدہ اور امدادی اداروں سے فوری امداد اور مداخلت کی اپیل کی ہے۔بین الاقوامی فلاحی ادارے ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں زندگیاں بچانے کا موقع تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے جبکہ یورپی کمیشن کی نائب صدر نے اسرائیل کے غزہ پر مکمل قبضے کی رپورٹس پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔حماس نے غزہ کی آئندہ تشکیل دی جانے والی حکومتی انتظامیہ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔حماس رہنما کا کہنا ہے کہ فلسیطینی مزاحمتی تنظیم کو غزہ پٹی کی گزرگاہیں اور امدادی کارروائیوں کا کنٹرول سنبھالنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

اسرائیل کا اقوام متحدہ کے کلینک پر حملہ، غزہ میں18فلسطینی شہید

غزہ، 6 اگست (یو این آئی) غزہ میں اسرائیلی فورسز نے آج صبح سے اب تک کم از کم 18 فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے ، جن میں ایک حملہ غزہ سٹی میں اقوام متحدہ کے کلینک پر کیا گیا، جہاں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کے مطابق اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل میروسلاو جینکا نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم کی غزہ پر مکمل قبضے کی کوششیں ‘انتہائی تشویشناک’ ہیں، یورپی کمیشن کی نائب صدر تیریسا ریبیرا نے اس منصوبے کو ‘ناقابل قبول اشتعال انگیزی’ قرار دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘یہ کافی حد تک اسرائیل پر منحصر ہے کہ وہ اس منصوبے پر عمل کرے یا نہیں’۔اسرائیل کی غزہ پر جنگ میں اب تک کم از کم 61 ہزار 20 افراد شہید اور ایک لاکھ 50 ہزار 671 زخمی ہو چکے ہیں۔7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں اسرائیل میں ایک ہزار 139 افراد مارے گئے تھے اور 200 سے زائد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔غزہ سٹی میں اقوام متحدہ کے زیرانتظام مرکزی کلینک پر تباہ کن حملہ کیا گیا ہے ۔یہ کلینک اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے کئی مرتبہ حملوں کا نشانہ بن چکا ہے ۔اسرائیلی فوج نے اس حملے سے قبل انخلا کا انتباہ جاری کیا تھا، تاہم اب تک اس نے کلینک کو نشانہ بنانے کے اصل مقصد پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔عام طور پر اسرائیل اقوام متحدہ کے زیرانتظام امدادی مراکز، پناہ گاہوں، کلینکس یا کسی بھی قسم کی سہولیات پر حملوں کو حماس کے ارکان کو مکمل طور پر ختم کرنے اور اُن کے بقول کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو تباہ کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیتا ہے ، لیکن اس کے شواہد فراہم نہیں کرتا۔اقوام متحدہ کا یہ کلینک اب فلسطینی خاندانوں کے لیے انخلا اور عارضی پناہ کا مرکز بن چکا ہے ۔اسرائیل، فلسطینی خاندانوں کے لیے نام نہاد محفوظ مقامات کو مسلسل محدود کر رہا ہے جنہیں اب غزہ سٹی کے مغربی کنارے ، سمندر کے بالکل قریب کے علاقے تک محدود کر دیا گیا ہے ، پورے غزہ میں فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔

امدادی ٹرک الٹ جانے سے 20 فلسطینی جاں بحق

غزہ : 6اگست ( یو این آئی) غزہ پٹی میں انسانی بحران خاص طور پر غذائی امداد کی کمی کے باعث انتہائی شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس دوران منگل اور بدھ کی درمیانی شب دیر البلح شہر میں خوراک لے جانے والا ایک ٹرک ایک الٹ جانے سے کم از کم 20 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ بات فلسطینی طبی ذرائع اور غزہ میں حکومتی میڈیا دفتر نے بتائی۔ذرائع کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب بڑی تعداد میں شہری اس امدادی ٹرک تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرک ایک ایسے راستے سے گزر رہا تھا جو آمد و رفت کے لیے موزوں نہ تھا، اس کے نتیجے میں ٹرک لوگوں کے ہجوم کے درمیان الٹ گیا۔مزید بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر ہلاک شدگان ان متاثرہ علاقوں کے رہائشی تھے جو شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، اور وہ خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں موت کا شکار ہوئے۔حکومتی میڈیا دفتر نے ایک بیان میں اسرائیلی فوج کو اس حادثے کا ذمے دار قرار دیا۔ بیان کے مطابق ٹرک کو مجبوراً شہر میں ایسے راستے سے داخل کیا گیا جو پہلے بم باری کا نشانہ بن چکا ہے اور ٹریفک کے لیے موزوں نہیں تھا۔دفتر نے کہا کہ اسرائیلی فوج امداد کی تقسیم کے عمل کو منظم ہونے سے روک رہی ہے اور اسے خطرناک اور غیر منظم حالات میں چھوڑ کر ”افراتفری اور بھوک کی راہ ہموار” کر رہی ہے۔

اسرائیل کی غزہ جنگ کا مقصد فلسطینیوں کو بھوکا مار کر ان کی جدوجہد کو کچلنا ہے: مصری صدر
قاہرہ : 6اگست ( یو این آئی ) مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں جنگ کا مقصد فلسطینیوں کو بھوکا مار کر ان کی جدوجہد کو کچلنا ہے۔ مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کا مقصد سیاسی مقاصد کا حصول یا یرغمالیوں کی رہائی نہیں رہا بلکہ اب اسرائیل کی غزہ میں جنگ عوام کو بھوکا رکھنا، ان کی نسل کشی اور فلسطینیوں کی جدو جہد کو ختم کرنا بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر نا تو فلسطینیوں کی جلا وطنی میں حصہ لے گا اور نا ہی ایسے کسی فیصلے کی حمایت کریگا۔ان کا کہنا تھا اسرائیل کے زیر قبضہ رفح گزرگاہ سے امدادی سامان کی غزہ میں ترسیل بڑی رکاوٹ ہے، مصری رفح گزرگاہ پر اب بھی امدادی سامان سے لدے 5000 ٹرک کھڑے ہیں۔واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور گزشتہ روز بھی اسرائیل نے حملے کرتے ہوئے خوراک کے متلاشی 51 افراد سمیت مزید 74 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔