غزہ میں شدت کا قحط ، اقوام متحدہ ادارہ کی توثیق

,

   

ایک چوتھائی فلسطینی آبادی بھوک ، پیاس اور نقاہت کا شکار۔ اسرائیل نے غزہ میں قحط کی صورتحال کی تردید کردی

جنیوا 22 اگست (ایجنسیز) غزہ میں پہلی بار شدید قحط کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں کام کرنے والے ادارہ انٹیگریٹیڈ فوڈ فیز کلاسیفکیشن (IPC) نے اِس سلسلہ میں جمعہ کو باضابطہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے غزہ میں شدید انسانی بحران کی توثیق کی ہے۔ آئی پی سی نے کہاکہ غزہ سٹی اور اطراف و اکناف کے قصبات میں قحط کی صورتحال ہے۔ اِس سے لگ بھگ 5,14,000 فلسطینی متاثر ہیں جو غزہ کی ایک چوتھائی آبادی ہوتے ہیں۔ یہ فلسطینی اپنے گھر بار سے محروم ہوکر عارضی خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اِس ادارہ نے پہلے بھی متنبہ کیا تھا کہ سارے غزہ میں قحط کی صورتحال کا اندیشہ ہے لیکن اس نے اِس سلسلہ میں باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا۔ اب آئی پی سی نے کہا ہے کہ غذا کی سربراہی کے معاملہ میں صورتحال اِس قدر ابتر ہے کہ بیان کرنا مشکل ہے۔ 21 امدادی تنظیمیں سرگرم ہیں اور اِن کے ساتھ اقوام متحدہ کے کئی ادارے بھی کام کررہے ہیں۔ اُنھیں یوروپی یونین، امریکہ، جرمنی، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر گوشوں سے فنڈس حاصل ہورہے ہیں۔ آئی پی سی نے 2004ء میں اپنے قیام کے بعد سے 5 جگہ قحط کی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔ آخری موقع گزشتہ سال کا رہا جب اِس نے سوڈان میں انسانی بحران اور قحط کا اعلان کیا تھا۔ قحط کی صورتحال کا اعلان 3 پہلوؤں پر مشتمل کسوٹی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اوّل یہ کہ کم از کم 20 فیصدی گھرانوں کو غذا کی شدید قلت کا سامنا ہوجائے، کم از کم 30 فیصدی بچے غذا کی سخت کمی سے دوچار ہوجائیں اور ہر 10 ہزار افراد میں سے 2 کی ہر روز بھوک کے سبب موت ہوجائے۔ 22 ماہ سے جاری لڑائی کے نتیجہ میں غزہ پٹی میں زائداز 5 لاکھ افراد کو شدید نوعیت کے نامساعد حالات کا سامنا ہے جن میں بھوک، بیروزگاری اور اموات نمایاں ہوتے ہیں۔ آئی پی سی کے مطابق مزید 1.07 ملین افراد (54 فیصد) ایمرجنسی کے حالات (آئی پی سی کا مرحلہ 4) کے حالات میں جی رہے ہیں، 3,96,000 افراد (20 فیصد) کو بحران (آئی پی سی کا مرحلہ 3) کا سامنا ہے۔ آئی پی سی کی رپورٹ کے برخلاف اسرائیل نے غزہ میں قحط کی صورتحال کی تردید کردی ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے جمعہ کو کہاکہ غزہ میں قحط جیسا کچھ نہیں ہے۔ وزارت نے X پر لکھا کہ آئی پی سی کی ساری رپورٹ حماس کی جھوٹی باتوں پر مبنی ہے جو مفادات حاصلہ کی تکمیل کرنے والی مختلف تنظیموں کے ذریعہ پھیلائی گئی ہیں۔ وزارت نے دعویٰ کیا کہ زائداز ایک لاکھ ٹرکس امداد کے ساتھ غزہ میں لڑائی چھڑنے کے بعد سے داخل ہوئے ہیں اور حالیہ ہفتوں میں کافی بڑی مقدار میں امداد غزہ پٹی پہنچائی گئی ہے جس میں مختلف غذائی اشیاء شامل ہیں اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی آئی ہے۔ اسرائیل نے مارچ سے غزہ میں غذائی اشیاء اور دیگر امداد کے داخلہ کو لگ بھگ پوری طرح روک رکھا تھا۔ ماہِ مئی میں امریکہ اور اسرائیل کی حمایت والے غزہ ہیومانیٹیرین فاؤنڈیشن کے ذریعہ غذا اور دیگر امداد پہنچائی گئی۔ تاہم زمینی صورتحال سے واقف امدادی ورکرس، حکومت اور فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ راحتکاری اشیاء غزہ کی 2 ملین کی آبادی کے لئے سخت ناکافی ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ GHF نے جب سے امداد بہم پہنچانے کی ذمہ داری لی ہے زائداز 1,400 فلسطینیوں کو اسرائیلی فورسیس نے ہلاک کردیا جبکہ وہ امدادی اشیاء حاصل کرنے میں مصروف تھے۔