غزہ میں قحط انسانی ساختہ ، امریکہ کے سوا سلامتی کونسل کے تمام ارکان کا موقف

   

5لاکھ افراد شدید بھوک سے متاثر۔ کونسل کے 14 ارکان کا فوری ، دائمی اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ
اقوام متحدہ، 28 اگست (یو این آئی) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کے سوا بقیہ تمام ممالک نے کہا ہے کہ غزہ میں قحط “انسانی ساختہ بحران” ہے ۔ انھوں نے خبردار کیا کہ جنگ میں بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع ہے ۔ کونسل کے 14 ارکان نے گزشتہ روز روز جاری مشترکہ بیان میں فوری، دائمی اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا، حماس اور دیگر گروہوں کے زیر حراست تمام قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، پورے علاقے میں امداد میں نمایاں اضافہ کرنے پر زور دیا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام امدادی پابندیاں فوری اور بغیر کسی شرط کے ختم کرے ۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے گزشتہ روز روز اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ “انٹیگریٹڈ فوڈ سیکورٹی فیز کلاسفیکیشن” رپورٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد گزشتہ ہفتے غزہ میں قحط کا اعلان کیا گیا تھا۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عیدن بارطال نے پریس کانفرنس میں کہا “اسرائیل مطالبہ کرتا ہے کہ انٹیگریٹڈ فوڈ سیکورٹی فیز کلاسفیکیشن اپنی من گھڑت رپورٹ فوراً واپس لے اور اس پر ایک بیان جاری کرے ۔اقوام متحدہ نے جمعہ کے روز غزہ میں قحط کا سرکاری اعلان کیا اور کہا کہ 5 لاکھ افراد شدید بھوک سے متاثر ہیں۔ اس نتیجے کا تعین “فوڈ سیکورٹی فیز کلاسفیکیشن” کی رپورٹ کے ذریعے کیا گیا تھا، جو اقوام متحدہ کا ایک معاون آلہ ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ گورنری میں، جس میں غزہ شہر اور اس کے مضافات شامل ہیں اور جو علاقے کا 20 فی صد ہے ، قحط پایا جاتا ہے ۔ اندازہ ہے کہ دیر البلح (وسط) اور خان یونس (جنوب) میں یہ قحط ستمبر کے آخر تک پھیل جائے گا۔ اقوام متحدہ نے قحط کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا اور کہا کہ امدادی سامان کے داخلے میں اسرائیل کی “منظم رکاوٹ” اس کا سبب ہے ۔ اسرائیل نے مارچ کے اوائل میں غزہ پر مکمل محاصرہ عائد کیا اور امدادی سامان کے داخلے پر پابندی لگا دی، تاہم مئی کے آخر میں اس پابندی میں کچھ نرمی کی گئی۔ داخلی اور بین الاقوامی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے ، اسرائیل نے گزشتہ روز شہر غزہ کے اطراف میں کارروائیاں تیز کر دیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شہر کو خالی کرانا “نا گزیر” ہے ۔ اقوام متحدہ اور غیر سرکاری تنظیمیں باقاعدگی سے غزہ میں انسانی بحران کی مذمت کرتی رہی ہیں۔ یہ صورت حال اسرائیل کے محاصرے اور گزشتہ تقریباً دو سال سے جاری بم باری کا نتیجہ ہے ۔ غزہ کی پٹی میں بیس لاکھ سے زیادہ فلسطینی مقیم ہیں۔