غزہ میں مظاہرین پر اسرائیلی فائرنگ سے دو فلسطینی بچے شہید

,

   

Ferty9 Clinic

تل ابیب؍دبئی۔7ستمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی فوج نے فلسطین کے علاقے غزہ پٹی میں جمعہ کی شام ایک احتجاجی ریلی کے شرکاء پر فائرنگ اور اندھا دھند آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید اور دسیوں زخمی ہوگئے۔العربیہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے مشرقی غزہ میں مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو فلسطینی 17 سالہ علی سامی علی الاشقر اور 14 سالہ خالد ابو بکر الربعی شہید اور 66 فلسطینی زخمی ہوگئے۔ ان میں سے 38 براہ راست فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔زخمیوں میں سے بعض کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ جمعہ کے روز غزہ میں مختلف مقامات پر حق واپسی ریلیاں نکالی گئیں۔ قابض فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ان پر گولیاں چلائیں اور ان پر آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوگئے تھے۔غزہ کے علاقے میں 30 مارچ 2018ء سے جاری احتجاجی ریلیوں پراسرائیلی فائرنگ سے اب تک 308 فلسطینی شہید اور 31 ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ ان میں سے 500 زخمیوں کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ جمعہ کے روز غزہ کی مشرقی سرحد پر 6200 فلسطینی جمع ہوئے اور انہوں نے سرحد کی طرف بڑھنے کیلئے احتجاج شروع کیا۔

اسرائیل پر پانچ راکٹ داغے گئے
فلسطینی غزہ انکلیو سے پانچ راکٹ اسرائیلی کے میدان میں داغے جانے کی اطلاعات ہیں۔اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔ آئی ڈی ایف نے ٹوئٹر پر لکھاکہ غزہ سے اسرائیل پر پانچ راکٹ داغے گئے ہیں۔فوج نے کہا جمعہ کو دیر رات ہوائی حملہ کا سائرن بجاتے ہوئے جنوبی اسرائیلی شہر شریڈٹ اور غزہ سرحد کے قریب واقع دیگر بستیوں کی طرف چلے گئے ۔راکٹ حملوں سے ابھی کسی طرح کے جان مال کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔غزہ وزارت صحت کے مطابق جمعہ کو ہو نے والی جھڑپوں میں دو فلسطینیوں کی موت ہو گئی اور 76 دیگر زخمی ہو گئے ۔