انسانی ہمدردی کی ایجنسیوں کو ایندھن کی بھیک مانگنے پر مجبور کردیا گیا، کمیونیکشن ڈائرکٹر جیولٹ گوماکا دلدوز بیان
غزہ : غزہ میں ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والی مرکزی کمپنی کے مطابق اس پٹی میں ایندھن کی کمی کی وجہ سے جمعرات کو انٹرنیٹ اور تمام فون نیٹ ورکس بند کر دیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق رفح سے امداد کی ترسیل بھی ممکن نہیں رہی۔ اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے ایجنسی (UNRWA) نے کہا ہے غزہ پٹی میں مواصلاتی نظام کی بندش کی وجہ سے جمعہ کے روز رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد کی ترسیل نہیں ہو پائے گی۔ غزہ میں ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والی مرکزی کمپنی کے مطابق اس محصور پٹی میں ایندھن کی کمی کی وجہ سے جمعرات کو انٹرنیٹ اور فون نیٹ ورکس بند کر دیے گئے ہیں۔ UNRWA کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر جولیٹ توما نے اردن کے دارالحکومت عمان میں نامہ نگاروں کو بتایا، ہم نے ایندھن، خوراک، پانی اور انسانی امداد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے دیکھا ہے۔ توما نے کہا کہ UNRWA مزید کام نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے پاس ایندھن نہیں ہے اور ان کے بقول، یہ سراسر اشتعال انگیزی ہے کہ انسانی ہمدردی کی ایجنسیوں کو ایندھن کی بھیک مانگنے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ جولیٹ نے کہا کہ اسرائیل نے خوراک کی ترسیل کیلئے UNRWA کو اس ہفتے محدود ایندھن فراہم کیا تھا۔ ہاسپٹلوں یا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس جیسے کسی دوسرے انفراسٹرکچر کو ایندھن استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایندھن لے جانے والا پہلا ٹرک ایک دن پہلے غزہ میں داخل ہوا اور UNRWA نے کہا کہ یہ آدھے ٹرک کے برابر ہے اور بالکل بھی کافی نہیں۔ مغربی کنارہ میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے 11,400 سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں سے دو تہائی خواتین اور بچے شامل تھے۔ اسرائیلی دفاعی افواج ( آئی ڈی ایف) نے جمعہ کے روز کہا کہ اس نے اسرائیلی فوجی نوا مارسیانو کی باقیات برآمد کر لی ہیں، وہ 7 اکتوبر کو عسکریت پسند گروپ حماس کے اسرائیلی علاقوں پر حملہ کے دوران یرغمال بنا لی گئی تھیں اور بعد میں ہلاک ہو گئیں۔ آئی ڈی ایف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مارسیانو کو حماس نے اغوا اور قتل کیا۔ حماس، جسے امریکہ، یورپی یونین، جرمنی ایک دہشت گرد گروپ تصور کرتے ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ 19 سالہ مارسیانو غزہ پر اسرائیلی بمباری میں ماری گئیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بن جامن نتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس ایوننگ نیوز کو بتایا کہ ہمیں ایسے اشارے ملے ہیں کہ انہیں (یرغمالیوں) کو شفا ہاسپٹل میں رکھا گیا تھا، جو کہ ہاسپٹل میں داخل ہونے کی ہماری ایک وجہ ہے۔ اگر وہ (وہاں) تھے تو انہیں باہر لے جایا گیا۔ اسرائیلی فوج نے جمعرات کو دوسرے دن بھی غزہ کے سب سے بڑے ہاسپٹل الشفا پر چھاپہ مارا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے عسکریت پسندوں کا کمانڈ سینٹر اس ہاسپٹل میں ہی زیر زمین قائم تھا۔ تاہم ہاسپٹل کا عملہ اور حماس کے عسکریت پسند دونوں ہی اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے مغربی کنارہ میں واقع جنین پناہ گزین کیمپ میں رات بھر کی کارروائی کے دوران کم از کم پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ قبل ازیں اسرائیلی فوج نے جمعرات کو کہا تھا کہ ہیبرون میں ایک چوکی پر فائرنگ کے تبادلے میں چار افراد مارے گئے۔ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں اور پولیس افسران نے ہیبرون میں حماس کے تین دہشت گردوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جنہوں نے ایک بڑا حملہ کرنے اور ہمارے فوجیوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حملے کے نتیجے میں ایک اسرائیلی فوجی مارا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارہ میں کشیدگی کو کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کرے۔
اسرائیل کی جنگی کابینہ کے ایک رکن بینی گانٹز کے ساتھ فون کال کے دوران بلنکن نے کہا، مغربی کنارہ میں کشیدگی کو کم کرنے کیلئے آبادکاروں کے انتہا پسند تشدد کی بڑھتی ہوئی سطحوں کا مقابلہ کرنے سمیت مثبت اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ بلنکن اور گینٹز نے غزہ میں اہم انسانی امداد کی ترسیل بڑھانے اور تیز کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ بلنکن نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے عسکریت پسندوں کے حملوں کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد کو آزاد کرانے کیلئے جاری سفارت کاری پر بھی بات کی۔اقوام متحدہ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارہ کے رہائشیوں کیلئے یہ سال پہلے ہی کم از کم 15 سالوں میں سب سے مہلک تھا، جس میں تقریباً 200 فلسطینی اور 26 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ لیکن سات اکتوبر کو حماس کے مہلک حملہ کے بعد سے صرف تین ہفتوں میں مغربی کنارہ میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں 120 سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔