غزہ میں چوتھی صدی عیسوی کی خانقاہ کو جنگ سے خطرہ : یونیسکو

   

نیوارک: غزہ میں چوتھی صدی عیسوی کی قام خانقاہ کو بھی اسرائیلی فوج کی بمباری سے تباہی کا خطرہ درپیش ہے۔ اقوام متحدہ نے اس قدیم عمارت کو اس فہرست میں شامل کر لیا جس میں انسانی ورثہ کی وہ عمارات یا تاریخی یاد گاریں شامل کی جاتی ہیں جن کے وجود کو خطرہ لاحق ہو جائے۔اقوام متحدہ کے ادارے ‘ یونیسکو ‘ کے مطابق غزہ میں اب سینٹ ہلاریون کمپلیکس کے نام سے معروف یہ خانقاہ مشرق وسطیی کی قدیم ترین خانقاہ ہیاسے یونیسکو نے پہلے سے عالمی ورثے کے طور پر اپنی فہرست میں شامل کر رکھا تھا۔ مگر اب یہ خطرے کی زد میں عالمی ورثے والی فہرست کا حسہ بنا دی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے نے یہ بات جمعہ کے روز بتائی ہے۔یونیسکو کے مطابق یہ عمارت چوتھی صدی میں قائم کی گئی تھی۔ اب فلسطینی اتھارٹی کی درخواست پر اسے خطرے والی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔یونیسکو کے دائریکٹر لازارے الاؤنڈو آسومو نے کہا ہے’ اس فہرست میں ڈالے جانے کا واحد مقصد اسے قدیمی ورثے کو بچانا ہے اور اسے بچانے کیلئے متوجہ کرنا ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ ماہ دسمبر میں یونیسکو کی کمیٹی برائے تحفظ ثقافتی املاک نے فیصلہ کیا تھا کہ اس عمارت کے تحفظ کیلئے عبوری گرانٹ مہیا کی جائے تاکہ جنگ سے ہونیوالے نقصان مین اسے بچایا جا سکے۔یونیسکو کی طرف سے کہا گیا ہیکہ اسے جنگ کے شروع ہوتے ہی عالمی ورثے سے متعلق تشویش پیدا ہو گئی تھی۔ خیال رہے اب تک اسرائیلی بمباری سے اب تک 39145 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔