اسپتالوں کی بحالی اور رفح کراسنگ کھولنے پر زور ،مسلم وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان
غزہ، 2 جنوری (یو این آئی) پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور یو اے ای نے غزہ پٹی میں بگڑتی انسانی صورتحال پر اظہار تشویش کیا ہے ۔ مسلم ملکوں نے غزہ پٹی میں بگڑتی انسانی صورتِ حال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل پر غزہ میں پابندیاں ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی اپیل کردی۔ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں غزہ میں بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی اور رفح کراسنگ کھولنے پر زور دیا۔ 8 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ بارشوں اور طوفان نے غزہ کی انسانی صورتِ حال سنگین بنا دی ہے ، موسم کی شدت نے غزہ پٹی کی نازک حالت بے نقاب کردی ہے ۔ سرد موسم میں زیر آب آئے خیموں اور غذائی قلت نے انسانی زندگی کو خطرات بڑھا دیے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں ناکافی انسانی رسائی، زندگی بچانے والی بنیادی اشیا کی شدید قلت ہے ، مسلم ممالک کے وزراء نے کہا شدید موسم نے نازک حالت کو بے نقاب کردیا ہے ، تقریباً 19 لاکھ افراد غیر مناسب پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں، سرد موسم میں کھلے مقامات پر رہائش اور غذائی قلت نے خطرات بڑھا دیے ہیں، بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے ۔ وزرائے خارجہ نے یو این اداروں اوربین الاقوامی تنظیموں کی انتھک کوششوں کو سراہا اور کہا اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں بلا رکاوٹ امدادی کام کرنے دے ، انسانی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہے ۔ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کیلئے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اسرائیل پر غزہ میں پابندیاں ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈالے اور اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے ۔
اسرائیل پر رفح کراسنگ دوبارہ کھولنے کیلئے امریکی دباؤ
تل ابیب، 2 جنوری (یو این آئی) اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے امریکہ کے دورے سے واپس آنے کے بعد اسرائیل غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں دوبارہ کھولنے کی تیاری کر رہا ہے ۔ اسرائیل کی کان 11 نیوز کے مطابق متوقع فیصلہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دباؤ کے نتیجے میں آیا ہے ۔ غزہ میں فلسطینیوں کے لیے ، رفح کراسنگ طویل عرصے سے بیرونی دنیا سے واحد رابطہ رہا ہے ۔ یہ مئی 2024 تک تھا جب اسرائیلی افواج نے کراسنگ کے فلسطینی حصے پر قبضہ کر لیا، اس کی عمارتوں کو تباہ کیا، سفر کو روکا اور خاص طور پر مریضوں کے لیے شدید انسانی بحران پیدا کیا۔ یہ 20 سالوں میں پہلی بار ہوا کہ اسرائیلی افواج نے سرحدی کراسنگ کو براہ راست کنٹرول کیا کیونکہ انہوں نے فلاڈیلفی کوریڈور کے اس پار فوجی بفر زون میں فوجیوں کو تعینات کیا ہے جہاں وہ آج بھی موجود ہیں۔ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے پہلے مرحلے میں جو امریکی انتظامیہ نے اکتوبر میں غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے مسلط کیا تھا، نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ انسانی امداد کو علاقے میں داخل ہونے دیں اور رفح کراسنگ دونوں سمتوں کو کھولیں۔
تاہم، اسرائیل نے امداد کے داخلے پر پابندیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جبکہ ایک فوجی یونٹ جسے اسرائیل کی کوآرڈینیشن آف گورنمنٹ ایکٹیویٹیز ان دی ٹیریٹریز (سی او جی اے ٹی) کہا جاتا ہے نے دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ رفح کراسنگ آنے والے دنوں میں خصوصی طور پر غزہ پٹی سے مصر جانے والوں کے اخراج کیلئے کھل جائے گی۔
