نیویارک : اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں 20 لاکھ انسانوں کو تباہی کا سامنا ہے۔سوشل میڈیا پر انتونیو گوتریس نے پیغام میں کہا ہے کہ غزہ میں شہریوں کے لیے ناقابلِ تصور تباہی ہے، سب اپنی ذمے داریاں ادا کریں، تاریخ ہم سب کا فیصلہ کرے گی۔سیکریٹری جنرل نے مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ میں زندگی بچانے والے سامان کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں کام کرنے والے عملے سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے، غزہ میں ساتھیوں کی حفاظت سے متعلق سخت تشویش ہے۔علاوہ ازیں مصر کی معروف درس گاہ جامعہ الازہر کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ احمد طیب نے اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی جو معصوم فلسطینیوں کے دفاع میں ناکام رہے۔
دعا ہے غزہ میں پھنسے خاندان زندہ ہوں، اسکاٹش فرسٹ منسٹر
ایڈن برگ: اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف نے کہا ہے کہ دعا ہی کرسکتے ہیں کہ غزہ میں پھنسے خاندان والے حیات ہوں۔اسکاٹش فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ غزہ پر شدید بمباری جاری ہے۔ غزہ میں مواصلاتی رابطے کاٹ دئیے گئے ہیں اس لیے خاندان والوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ تین ہفتوں سے غزہ میں پھنسے خاندان کے افراد کے لیے اب صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے۔حمزہ یوسف کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کو جھنجھوڑنے اور غزہ کی صورتحال پر کارروائی کرنے کے لیے مزید کتنے بچوں کو اپنی جان قربان کرنا ہوگی۔