اسرائیل نے ترکیہ سے اپنا کچھ سفارتی عملہ واپس بلالیا
تل ابیب :غزہ میں جاری اسرائیل کے حملوں پر ترکیہ کے سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے ترکیہ سے اپنے سفارتی عملے کے کچھ افراد کو واپس بلا لیا۔خبر ایجنسی کی رپوٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرخارجہ ایلی کوہن کا کہنا ہے کہ ترکیہ سے آنے والے سنگین بیانات پر اپنے کچھ سفارتی عملے کو واپس بلایا ہے۔اسرائیلی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ اسرائیل اور ترکیہ کے تعلقات کا ازسر نو جائزہ لیں گے۔اس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردوان نے استنبول میں ریلی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حماس دہشت گرد تنظیم نہیں ہے، پوری دنیا کو بتائیں گے کہ اسرائیل جنگی مجرم ہے۔ترک صدر نے کہا کہ ہم تیاری کر رہے ہیں، ہم اسرائیل کو جنگی مجرم قرار دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل 22 روز سے کھلے عام جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، مغربی رہنماؤں نے اسرائیل سے جنگ بندی کرنیکا نہیں کہا۔
فلسطین کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے: ترکیہ
استنبول : ترکیہ صدارتی محکمہ اطلاعات کے سربراہ فخر الدین آلتن نے کہا کہ ترکیہ نے ایک دفعہ پھر پوری دنیا کے لئے اعلان کر دیا ہے کہ ہم فلسطین کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے۔آلتن نے کل استنبول میں منعقدہ گرینڈ فلسطین جلوس کے بارے میں سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ صدر رجب طیب اردغان، نام نہاد مہذّب اور جمہوری ممالک کے دوغلے پن اور بزدلی کے مقابل حقیقت کو ببانگ دہل بیان کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم، معصوم شہریوں کے مقابل اسرائیل کے جنگی جرائم کی طرف سے ہرگز لاپرواہی نہیں برتیں گے۔ ہمارے عوام نے آج استنبول میں اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کا ایک ناقابل فراموش مظاہرہ کیا ہے۔ گرینڈ فلسطین جلوس کے دوران ہم نے پوری دنیا کے لئے دوبارہ اعلان کر دیا ہے کہ ہم فلسطین کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے۔