غزہ پٹی پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری، متعدد جاں بحق

   

غزہ : اسرائیلی فضائیہ نے پیر اور منگل کی درمیانی شب غزہ کی پٹی پر شدید حملے کیے جن میں 19 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل کے مطابق اسرائیلی فوج کے خونی حملوں میں مرنے والوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے دوران مقامی آبادی کو نکالنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو سراہا ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق غزہ کی پٹی کے لوگ ”یرغمال” ہیں جن کو کوچ کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، چوں کہ یہ لڑائی کا علاقہ ہے لہذا ہم نے انھیں نہیں روکا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے لڑائی کی دوسری جگہوں مثلا یوکرین اور شام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لوگوں کو لڑائی سے فرار اختیار کرنے کی اجازت دی گئی۔ نیتن یاہو کے مطابق دیگر ممالک کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی ہے جو غزہ کے لوگوں کا خیر مقدم کرنے کو تیار ہیں۔ البتہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ان ممالک کے نام نہیں بتائے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ غزہ کو فلسطینی آبادی کے لیے ”محفوظ جگہ” ہونا چاہیے۔ ٹائمز آف اسرائیل اخبار کے مطابق ٹرمپ نے 2005 میں غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو غزہ کو مطلقا نہیں چھوڑنا چاہیے تھا، میں نہیں جانتا انھوں نے ایسا کیوں کیا… میں جانتا ہوں انھوں نے امن کا وعدہ کیا تھا تاہم یہ اقدام کامیاب نہیں ہوا، غزہ تو موت کا ایک خطرناک جال ہے۔ یاد رہے کہ عرب ممالک، انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینیوں نے ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی کی آبادی کی بیرون میں مستقل آباد کاری اور تباہ حال ساحلی پٹی کو مشرق وسطی کے ریویرا میں تبدیل کرنے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔