پیرس ۔ فرانس کی ایک عدالت نے الجزائر کے فٹ بالر یوسف اتال کو غزہ جنگ کے بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ شئیر کرنے پر 8 ماہ قید کی سزا سنا دی۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فرانس کی نائس کرمنل کورٹ نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ یوسف اتال کی جانب سے اکتوبر 2023 میں کی گئی سوشل میڈیا پر شئیرکی گئی ویڈیو میں انہوں نے مذہب کی بنیاد پر نفرت کو ہوا دی۔ عدالت نے فٹ بالرکو 8 ماہ قید کی سزا سناتے ہوئے45 ہزار یورو (49 ہزار ڈالرز) جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ رپورٹ کے مطابق الجزائر کے فٹ بالر فوری طور پر جیل میں وقت گزارنے کی ضرورت نہیں ہوگی، اس کے بجائے وہ عدالت کی طرف سے مقررکردہ بعض شرائط کے تحت آزاد رہ سکتے ہیں، اگر ایک 8 ماہ کے پروبیشن مدت کے دوران شرائط کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، تو معطل سزاکو فعال کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ قیدخانے جاسکتے ہیں۔ یوسف اتال الجزائر کے فٹبالر ہیں جو لیگ ون کلب نائس اور الجزائر کی قومی ٹیم کے لیے ڈیفنڈرکے طور پر کھیلتے ہیں۔ یاد رہے کہ یوسف اتال نے7 اکتوبر کو حماس کی اسرائیل کے خلاف کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جہاں ان کے 32 لاکھ فالوورز ہیں۔ مذکورہ ویڈیو میں مذہبی مبلغ محمود الحسنات غزہ کے بچوں کو درپیش مشکلات کا ذکرکرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یہودیوں پر عذاب نازل کرے اوراگر وہ غزہ کے باسیوں پر پتھراو کریں تو ان کو مزید طاقت دے۔ فرانس کی لیگ ون کی ٹیم نیس کے لیے کھیلنے والے27 سالہ فٹ بالر نے فوراً ہی یہ پوسٹ ڈیلیٹ کردی تھی اور اس پر معافی بھی مانگی تھی لیکن کلب نے ان کا معاہدہ منسوخ کردیا تھا، جبکہ فرانس میں پراسیکیوٹر نے ان کے خلاف دہشت گردی کے جوازکے شبے میں کارروائی شروع کردی تھی۔ نوجوان فٹ بالر نے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا وہ کبھی نفرت کے پیغام کی حمایت نہیں کرتے اور وہ دنیا میں کہیں بھی تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ بعدازاں پولیس نے فٹبالر سے گفتگو اور ویڈیو دیکھنے کے لیے اس تحقیقات کو روک کر ان کے خلاف مذہبی منافرت کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے تھے۔ ان کے کلب نے انہیں اگلے اْس وقت لیگ سے معطل کردیا تھا جبکہ پروفیشنل فٹبال لیگ نے ان پر7 میچوں کی پابندی عائد کردی تھی۔ یوسف اتال کی الجزائر کی ٹیم کے ساتھیوں نے کہا تھا کہ یوسف کے ساتھ نرمی برتی جائے کیونکہ انہوں نے اپنے عمل پر معافی مانگ لی ہے اور ویڈیو بھی پوری نہیں دیکھی تھی۔