غزہ کی تعمیرنو کیلئے بھی مصر میں کانفرنس کا انعقاد ہوگا

   

قاہرہ ۔ 14 اکٹوبر (ایجنسیز) غزہ کیلئے امن سربراہی اجلاس پیر کی شام شرم الشیخ میں شروع ہوا جس کی صدارت مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کی۔ صدر ٹرمپ نے سربراہی اجلاس کا افتتاح اپنے کلمات سے کیا جس میں انہوں نے شرکت کرنے والے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد امریکی رہنماؤں اور ثالثوں کی جانب سے غزہ جنگ بندی کے معاہدے پر ایک جامع دستاویز پر دستخط کیے گئے۔اپنی طرف سے صدر السیسی نے صدر ٹرمپ کی ان جرات مندانہ کوششوں کی تعریف کی جنہوں نے غزہ معاہدہ کو حاصل کرنے میں مدد کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں امن کے ایک نئے دور کا دروازہ کھولتا ہے۔ السیسی نے اعلان کیا کہ مصر غزہ میں تعمیر نو اور ترقیاتی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔مصری صدر السیسی نے کہا کہ کل کے مخالفین اگلے کل کے شراکت دار بن سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی عوام کو ایک آزاد ریاست کے اپنے حق سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ مصری صدر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ امن صرف فوجی طاقت کے ذریعہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ دو ریاستی حل امن کو مستحکم کرنے کا واحد راستہ ہے۔السیسی نے مزید کہا کہ غزہ معاہدہ ایک نئے مشرق وسطیٰ اور دو ریاستی حل کی راہ ہموار کرتا ہے۔ یہ پرامن مشرق وسطیٰ حاصل کرنے کا آخری موقع ہو سکتا ہے۔ ہم غزہ کی تعمیر نو کے ساتھ آگے بڑھنے کی بنیاد رکھیں گے۔ غزہ میں زندگی کی بحالی کیلئے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
صدر السیسی نے اپنے کلمات کا اختتام یہ اعلان کرتے ہوئے کیا کہ وہ امریکی صدر کو امن کیلئے ان کی کوششوں کے اعتراف میں مصر کیسب سے بڑا اعزاز “نائل کالر” سے نوازیں گے۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پیر کے اوائل میں شرم الشیخ پہنچے جہاں انہوں نے اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے غزہ امن اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔