قاہرہ : مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو سے متعلق مجوزہ عرب مصری منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ منگل کے روز قاہرہ میں ہونے والے ہنگامی سربراہ اجلاس میں عرب قیادت کے سامنے پیش کیا جائیگا۔ عبدالعاطی نے یہ بات کل شام بحیرہ روم کیلئے یورپی یونین کی خاتون کمشنر ڈوبرا شویکا کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ مصری وزیر خارجہ کے مطابق عرب قیادت، سربراہان اور رہنماؤں کی جانب سے منظور کیے جانے سے قبل کسی فریق کو منصوبے کی تفصیلات میں شریک نہیں کیا جا سکتا۔عرب ممالک نے غزہ کی پٹی پر کنٹرول حاصل کرنے اور فلسطینیوں کی جبری ہجفت سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کا منصوبہ مسترد کر دیا تھا۔امریکی صدر اپنے منصوبے کے تحت غزہ کو ’’مشرق وسطیٰ کا ریویرا‘‘ میں بدل دینا چاہتے ہیں۔ منگل کے روز ہنگامی عرب سربراہ اجلاس کی میزبانی سے قبل مصر آج عرب وزرائے خارجہ ایک اہم اجلاس منعقد کررہا ہے ۔مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالے تاکہ وہ فائر بندی معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کرے۔ معاہدے کے پہلے مرحلے کے اختتام کے ساتھ ہی اسرائیل نے امریکہ کی اس تجویز کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ تجویز میں مذکورہ مرحلے کو اپریل کے وسط یعنی رمضان کا مہینہ اور یہودیوں کی عیدِ فسح گزر جانے کے بعد تک توسیع دینے کا کہا گیا ہے۔البتہ حماس تنظیم پہلے مرحلے کی توسیع کو کئی بار مسترد کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ تنظیم براہ راست دوسرے مرحلے میں منتقل ہونے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔دوسرے مرحلے میں تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کی پٹی میں جنگ کو حتمی طور پر روکا جانا شامل ہے۔دوسرے مرحلے کیلئے مذاکرات کیلئے حرکت میں آنا ہو گا، یہ یقینا مشکل ثابت ہوگا۔ اسرائیل نے اتوار کے روز فائر بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ ختم ہونے کے ساتھ ہی غزہ میں سامان اور امداد کا داخلہ روک دیا۔بات چیت کے دو وساطت کار ملکوں مصر اور قطر نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر کے انسانی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔