غزہ کی سکیورٹی کیلئے مصری تربیت یافتہ فلسطینی دستے کی تشکیل

   

مصری کیمپوں میں جدید اور پیشہ ورانہ تربیت ۔ فلسطینی دستے کو جنگی طور پر تیار کیا جارہا ہے

واشنگٹن، 28 اگست (یو این آئی) “وال سٹریٹ جرنل” کے مطابق عرب عہدیداروں نے بتایا ہے کہ مصر نے غزہ کی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑی فورس کا حصہ بننے کے لیے سینکڑوں فلسطینیوں کو تربیت دینا شروع کر دی ہے ۔ ان امیدواروں نے مصری فوجی اکیڈمیوں میں سکیورٹی کی تربیت شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں مصر کے باخبر ذرائع نے مزید تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے ۔ ان ذرائع نیالعربیہ ڈاٹ نیٹکو بتایا ہے کہ اس گروپ میں تقریباً 5 ہزار فلسطینی سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں 6 ماہ کی تربیت دی جائے گی جو ہر قسم کی سیکیورٹی پر مشتمل ہوگی۔ یہ گروپ اسٹریٹیجک علاقوں اور اہم سروسز اور سکیورٹی دفاتر کو سکیورٹی فراہم کرے گا، انسداد دہشت گردی، اسمگلنگ کی روک تھام، امن برقرار رکھنا اور جرائم کا مقابلہ کرنا بھی اس کے کاموں میں شامل ہوگا۔ ذرائع نے مزید کہا کہ ان اہلکاروں کا انتخاب انتہائی احتیاط اور توجہ سے کیا گیا ہے اور وہ مصری کیمپوں میں جدید اور پیشہ ورانہ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان کو جسمانی اور جنگی طور پر تیار کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ایک ایسی پیشہ ور سکیورٹی فورس کی بنیاد بن سکیں جو جنگ کے بعد غزہ کے استحکام اور سلامتی کی حفاظت کر سکے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فورس کسی بھی بیرونی سرپرستی، غیر ملکی مداخلت یا فلسطینی گروپوں کے کنٹرول سے مکمل طور پر آزاد ہوگی تاکہ جنگ کے بعد غزہ میں کوئی سکیورٹی خلا یا افراتفری پیدا نہ ہو۔ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کے مشیر میجر جنرل اسامہ محمود کبیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مصری سکیورٹی اداروں کی جانب سے فلسطینی پولیس اہلکاروں کو تربیت دینے کا مقصد ان اہلکاروں کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے تاکہ وہ اس نئی اور مشکل صورتحال میں اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مصر کا یہ کام اس انسانی المیے کی طرف اس کے کردار کا تسلسل ہے جو تقریباً دو سال سے جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کو پہنچا ہے اور یہ سب جنگ کے بعد کے دن کی تیاری کا حصہ ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ قدم تقریباً ایک سال پہلے قاہرہ میں منظور کی گئی معاشرتی معاونت کمیٹی کی تجویز پر عمل درآمد ہے جہاں ستمبر 2024 میں فتح اور حماس نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ جنگ کے بعد حماس سیاسی منظر نامے سے مکمل طور پر باہر ہو جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ غزہ کی پٹی کا انتظام ایک ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا۔
جو اعلیٰ اور قابل شخصیات پر مشتمل ہوگی اور اس کا نام “معاشرتی معاونت کمیٹی” ہوگا، تاکہ یہ غزہ کے معاملات کا انتظام سنبھال سکے اور براہ راست فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کمیٹی متعلقہ وزراء کی طرح ہوگی اور مختلف شعبوں جیسے سکیورٹی، سماجی، تجارتی، صحت، تعلیم اور ملازمت کے معاملات چلائے گی۔