غزہ کی ماں کا کربناک انتظار: بیٹی شہید ہوئی یا قید؟

   

غزہ 31 مارچ:(ایجنسیز) غزہ میں جاری طویل اور تباہ کن جنگ کے دوران ہزاروں فلسطینیوں کے لاپتہ ہونے کا المیہ شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں خاندان اپنے پیاروں کی موت یا گرفتاری کی غیر یقینی صورتحال میں کربناک انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں ایک نیم تباہ شدہ گھر میں تحریر ابو ماضی اپنی بیٹی اور بیٹے کی یادوں کے سہارے زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کی 20 سالہ بیٹی ملاک ابو ماضی، جو ایک یونیورسٹی طالبہ اور ناصر اسپتال میں رضاکار نرس تھیں، 2024 میں اچانک لاپتہ ہو گئیں۔خاندانی ذرائع کے مطابق شدید بمباری کے باعث خاندان المواصی کے ساحلی علاقے کی جانب منتقل ہو گیا تھا، تاہم ملاک اور ان کے 18 سالہ بھائی یوسف گھر سے اپنی کتابیں لینے واپس گئے، مگر پھر کبھی نظر نہیں آئے۔بعد ازاں جب رشتہ دار گھر پہنچے تو تباہ شدہ مکان سے انسانی باقیات برآمد ہوئیں، جس کی بنیاد پر غزہ کی وزارت صحت نے ملاک کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا، تاہم یوسف کے بارے میں کوئی معلومات نہ مل سکیں۔تاہم چند ماہ بعد صورتحال نے ایک نیا اور تکلیف دہ رخ اختیار کر لیا، جب حال ہی میں رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں کی فہرست میں ملاک ابو ماضی کا نام سامنے آیا، جس کے ساتھ درج تھا: “کوئی معلومات دستیاب نہیں۔تحریر ابو ماضی کا کہنا ہے کہ وہ شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہیں۔میں نے اب تک اپنے بچوں کی کوئی خبر نہیں سنی، رات بھر بے چین رہتی ہوں، زندگی کا ذائقہ ختم ہو چکا ہے۔انہوں نے اپنی بیٹی کی تلاش کے لیے اسرائیل کے ایک عرب اکثریتی شہر میں وکیل کرنے کی کوشش کی، تاہم بھاری فیس کے باعث وہ یہ قدم نہ اٹھا سکیں۔
انسانی حقوق کے ادارے اس معاملے کو ایک وسیع تر مسئلے کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ ایک تحقیق کار کے مطابق جنگ کے دوران ہزاروں فلسطینیوں کو بغیر کسی مقدمے اور قانونی رسائی کے خفیہ مقامات پر رکھا گیا ہے۔