غز: غزہ کی انتظامیہ کو ہتھیار دینے جیسے مسائل پر حماس کے اندر اختلافات کی حالیہ اطلاعات کے جلو میں تحریک نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ تباہ شدہ پٹی کی انتظامیہ کے حوالے سے طے پانے والے کسی بھی فارمولے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔حماس کے رہنما عبداللطیف القانوع نے زور دے کر کہا کہ حماس غزہ کے انتظام کے لیے کسی بھی متفقہ قومی فارمولے کو قبول کرے گی۔انہوں نے آج جمعرات کو ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ حماس ”غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے میں توسیع کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سرخ لکیروں کے مطابق دو مراحل (پہلے اور دوسرے) کو ضم کرنے کے لیے تیار ہیں”۔حماس نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ 19 جنوری کو نافذ ہونے والے معاہدے کے پہلے مرحلے میں طے شدہ انسانی پروٹوکول میں مسلسل خلل ڈال رہا ہے اور امداد اٹرکوں کے داخلے کو روک رہا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کی جانب سے معاہدے کو ناکام بنانے اور اس سے بچنے کی کوشش صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔ اس پیچیدگی اور بحران کی ذمہ داری اسرائیل پر عاید ہوگی۔ ایسی صورت حال اسرائیلی قیدیوں کی تکالیف میں بھی اضافہ کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ثالثوں کی کوششوں، ان کے موثر کردار اور حماس کے اصرار نے فلسطینی قیدیوں کی ساتویں کھیپ کی رہائی کو روکنے کی اسرائیل کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔حماس نے آج اعلان کیا تھا کہ وہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔یہ بات اس وقت سامنے آئی جب اسرائیل نے فجر کے وقت تقریباً 600 فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے میں چار اسرائیلیوں کی لاشیں موصول ہوئیں۔اس کے بعد رہا ہونیوالے فلسطینی قیدیوں کی بسیں جنوبی غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ پہنچیں۔جب کہ 97 فلسطینیوں کو مصر منتقل کیا گیا جہاں وہ اس وقت تک موجود رہیں گے جب تک انہیں کسی دوسرے ملک میں منتقل نہیں کیا جاتا۔