غزہ کے شہریوں کو بھوک سے مارنا جائز

   

یوروپی یونین اور برطانیہ نے اسرائیلی وزیر کے بیان کی مذمت کی
برسلز / لندن : یورپی یونین، فرانس اور برطانیہ نے اسرائیلی وزیر کے بیان کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غزہ کی 20 لاکھ کی آبادی کو بھوک سے مارنا ’جائز اور اخلاقاً درست‘ ہوگا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالل سماٹریش نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’دنیا میں کوئی بھی ہمیں 20 لاکھ کی آبادی کو بھوکا نہیں مارنے دے گا اگرچہ ایسا کرنا جائز اور اخلاقی طور پر درست ہوگا تاکہ یرغمالیوں کو رہا کروایا جا سکے۔‘انہوں نے کہا ’ہم انسانی امداد اس لیے لا رہے ہیں کیونکہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ ہم ایک ایسی صورتحال میں ہیں جہاں ہمیں جنگ جاری رکھنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت کی ضرورت ہے۔‘اسرائیلی وزیر کے بیان کے بعد بین الاقوامی کمیونٹی میں غصہ پایا گیا ہے جبکہ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ جان بوجھ کر شہریوں کو بھوکا رکھنا ’جنگی جرم‘ ہے۔یورپی یونین نے جاری بیان میں کہا کہ ’اس سے ایک مرتبہ پھر ان کی بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی اصولوں کے لیے نفرت صاف ظاہر ہوتی ہے۔‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم اسرائیلی حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ خود کو وزیر کے بیان سے واضح طور پرعلیحدہ کرے۔یورپی یونین نے ایک مرتبہ پھر ’فوری جنگ بندی‘ اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور غزہ کی پٹی میں امداد کی تقسیم کو بڑھانے کا کہا ہے۔فرانس نے بھی اسرائیلی وزیر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔فرانس نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کو انسانی امداد پہنچانا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داری ہے کیونکہ اسرائیل کے پاس ہی تمام علاقے کا کنٹرول ہے۔