غزہ سٹی، 22 جون (ایجنسیز) جنگ، تباہی، بے گھری اور مسلسل غیر یقینی صورتحال کے شکار غزہ کے چند نوجوان سرفرز آج بھی سمندرکی لہروں سے اپنا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ خیموں اور ملبے میں زندگی گزارنے پر مجبور یہ نوجوان اسرائیلی حملوں کے خطرات کے باوجود ساحل کا رخ کرتے ہیں، جہاں سرفنگ انہیں ذہنی سکون، آزادی اور امید کا احساس دلاتی ہے۔23 سالہ طحین ابو عاصی جنہوں نے اپنے والد اور دادا سے سرفنگ سیکھی، انہوں نے کہا ہے کہ لہروں پر سوار ہونے کا احساس ناقابلِ بیان ہے۔ ان کے مطابق جنگ، بمباری اور تباہی کے باوجود سرفنگ ہی وہ ذریعہ ہے جو انہیں خوف اور دباؤ سے چند لمحوں کے لیے نجات دلاتا ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ صورتحال اب بھی خطرناک ہے اورکسی بھی وقت ساحل یا سمندر کے قریب گولہ باری ہو سکتی ہے۔اگرچہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے، لیکن غزہ میں کشیدگی اور تشدد کے واقعات اب بھی جاری ہیں۔