l سینکڑوں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں‘ہاسپٹل سے زبردستی باہر جانے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے
lہاسپٹلس پر حملوں کے بعد اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کیلئے جاری مذاکرات معطل:حماس
غزہ؍ کراچی: اسرائیلی فوج کی ہاسپٹلس پر بمباری اور حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا اورہاسپٹلس قبرستانوں میں تبدیل ہونا شروع ہوگئے۔عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہاسپٹل کے آئی سی یو کے تمام مریض دم توڑ گئے۔ ہاسپٹل کے انکیوبیٹرز میں موجود تمام قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو نکال لیا گیا جن میں سے مزید 5 بچوں نے دم توڑ دیا۔ غزہ کے الرنتیسی ہاسپٹل کے ایک نرس نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ہاسپٹل کے عملے کو باہر نکال دیا جبکہ انتہائی نگہداشت میں موجود مریضوں اور زخمیوں کو مرنے کیلئے چھوڑ دیا گیا۔مریضوں کو منتقل کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ حماس کا کہنا ہے کہ ہاسپٹلس پر حملوں کے بعد اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کیلئے جاری مذاکرات معطل کردیئے گئے ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے جواب میں حزب اللہ ، القسام اور القدس بریگیڈ کے اسرائیل پر راکٹ حملے جاری۔ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے عرب رہنماؤں سے کہا ہے کہ اگر وہ اپنے مستقبل کیلئے فکر مند ہیں تو وہ حماس کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں ۔ حماس شمالی غزہ میں اپنا کنٹرول کھو چکی ہے ۔ حماس اور حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی علاقوں سمیت مختلف علاقوں پر درجنوں راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے حملے میں 10 اسرائیلی زخمی ہوگئے ہیں۔صیہونی طیاروں نے اتوار کے روز بھی غزہ کے ہاسپٹلس پر بم برسائے جبکہ اسرائیلی فوج کے اسنا ئپرز اور ٹینکس نے بھی ہاسپٹلس کو گھیرے میں لے لیا ہے جہاں ہزاروں مریض اور بے گھر افراد محصور ہوکر رہ گئے ہیں ۔تفصیلا ت کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کے ہاسپٹلس پر حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ صیہونی افواج کی کارروائیوں کے دوران غزہ شہر کے سب سے بڑے الشفاہاسپٹل میں دل کے مریضوں کا وارڈ مکمل تباہ ہوگیا جبکہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ کو دوسری بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ فلسطینی وزیر صحت مائی الکائلہ کا کہنا ہیکہ مریضوں کو ہاسپٹلس سے زبردستی سڑکوں پر منتقل کیا جارہا ہے، اسرائیلی فورسز ہاسپٹلس سے لوگوں کو نہیں نکال رہی بلکہ اس کی بجائے وہ زخمیوں کو زبردستی سڑکوں پر لا رہے ہیں تاکہ انہیں ناگزیر موت کا سامنا کرنا پڑے۔ غزہ کے ہاسپٹلس کے ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا ہیکہ الشفاء ہاسپٹلس کی تباہ کن صورتحال کی وجہ سے سینکڑوں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔اسرائیل نے تباہی سے دوچار ہاسپٹلس سے بچوں کو منتقل کرنے میں مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہیکہ جنگ بندی یا انخلاء کے بغیر ہاسپٹل ’’مردہ خانہ بن جائے گا‘‘۔ اقوام متحدہ کے ایک کمپاؤنڈ پر بھی اسرائیلی فورسز نے حملہ کردیا جس میں اقوام متحدہ کے مطابق متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ سرجن محمد عبید کے مطابق الشفاء ہاسپٹل کے اندر آپریشن کے بعد تقریباً 600 مریضوں،40بچوں اور انتہائی نگہداشت میں موجود 17 افراد کیلئے پانی، بجلی، خوراک کا انتظام نہیں ہے جبکہ ہاسپٹل میں انٹرنیٹ تک رسائی بھی بند ہوچکی ہے۔ دوسری جانب غزہ کے شمالی علاقوں سے مزید ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل کردیا گیا ہے ۔