لبنان کی سیاسی تجزیہ نگار سارہ ال یافی نے پول کھول دی
بیروت :لبنان کی سیاسی تجزیہ نگار سارہ ال یافی نے غزہ کے ال اہلی ہاسپٹل پر حملے کو فلسطینیوں کے اپنے راکٹ کا نتیجہ قرار دینے کے اسرائیلی اور عالمی قوتوں کے مؤقف کی پول کھول کر رکھ دی اور ان بیانات کو ادھیڑ کر رکھ دیے۔سارہ ال یافی نے جامع تحقیق اور شواہد کے ساتھ کیے گئے تجزیے سے اسرائیل کے جھوٹ اور غلط بیانی کو دنیا کے سامنے ثابت کر دیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ انسٹا گرام پرجاری کی گئی اپنی ایک ویڈیو میں بات کرتے ہوئے سارہ ال یافی نے کہا کہ میں آپ سے دو سوالات پوچھ رہی ہوں، پہلا سوال ہے کہ فلسطینی عسکریت پسند گروپوں کے پاس کْل ملا کر کتنے راکٹ ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ مطلب کہ حماس، فلسطینی اسلامی جہاد، پی آئی جے اور پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین، ان سب نے اکیسویں صدی میں اسرائیل پر کتنے راکٹ فائر کیے ہوں گے؟ یعنی 2001 سے 2023 تک بشمول اس ہفتے کے، کتنے راکٹ اسرائیل کی طرف 23 سالوں میں فائر ہوئے ہوں گے؟ویڈیو میں انہوں نے سوال کیا کہ اندازاً ایک نمبر ہی بتائیں۔ انہو ںنے جواب کیلئے 3 سیکنڈز دئے اورپھر اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ2001 سے 2023 تک بشمول اس ہفتے فلسطینی عسکریت پسندوں نے اسرائیل پر 28 ہزار 800 راکٹ اور 3 ہزار 700 مارٹر شیل مارے، یعنی حماس اور پی آئی جے نے 23 سالوں میں اسرائیل پر مجموعی طور پر 32 ہزار 500 راکٹ اور مارٹر شیل فائر کیے۔انہوں نے کہا کہ اب اس میں 10 فیصد غلطی کی گنجائش رکھ لیں اور اس کا راؤنڈ فگر نکالیں تو 36 ہزار سے زیادہ بنتا ہے، اب یہ تعداد چاہے بہت زیادہ راکٹ ہوں یا کچھ راکٹ ہوں لیکن یہی تعداد بنے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ نکتہ نہیں ہے بلکہ ان کے پاس اس سے کہیں زیادہ اہم نکتہ ہے جو بعد میں آئے گا۔انہوں نے دوسرا سوال کیا کہ کتنے لوگ 23 سالوں میں ان 36 ہزار راکٹوں، مارٹر شیلوں سے مارے گئے؟ 23 سالوں میں 36 ہزار راکٹ فائر کیے گئے، نتیجے میں کتنے لوگ مارے گئے؟جس کے بعد اپنی ویڈیو میں سارہ ال یافی نے اپنے دونوں سوالوں سے متعلق اعداد و شمار کا جامع تحقیق اور شواہد کے ساتھ سائنسی تجزیہ کرتے ہوئے عقلی دلیلوں سے اسرائیل اور بین الاقوامی قوتوں کے جھوٹے دعوؤں کی پول کھول کر رکھ دی۔