’’ غزہ ہیومینیٹیرین‘‘ کی فلسطینیوں کیلئے پٹی کے اندر اور باہر علاقہ کی تجویز

   

یروشلم۔ 8 جولائی (ایجنسیز) رائٹرز کو ملنے والی ایک تجویز کے مطابق امریکہ کی حمایت یافتہ ’’غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن‘‘ نے غزہ کے اندر اور شاید باہر بھی “انسانی منتقلی کے علاقوں” کے نام سے کیمپ قائم کرنے کی پیشکش کردی ہے، اس پیشکش کا مقصد غزہ کے فلسطینیوں کو پناہ دینا ہے۔ یہ پیشکش حماس کے آبادی پر کنٹرول کو ختم کرنے کے اس کے ویڑن کی بھی عکاسی کر رہی ہے۔باخبر ذرائع نے بتایا کہ یہ منصوبہ، جس پر تقریباً دو ارب ڈالر لاگت آئے گی اور یہ 11 فروری کے بعد کسی وقت غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کیلئے تیار کیا گیا تھا، پہلے ہی ٹرمپ انتظامیہ کو پیش کیا جا چکا ہے اور حال ہی میں وائٹ ہاؤس میں اس پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ رائٹرز کو ملنے والے منصوبے کے مطابق ان کیمپوں کو ایسے وسیع طور پر پھیلے رضاکارانہ مقامات کے طور پر بیان کیا گیا ہے جہاں غزہ کے رہائشی عارضی طور پر رہ سکتے اور انتہا پسندی سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ اس طرح وہ دوبارہ معاشرے میں ضم ہو سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو دوبارہ آبادکاری کی تیاری کر سکتے ہیں۔یاد رہے امریکی اخبار “واشنگٹن پوسٹ” نے مئی میں کہا تھا کہ ’’ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن‘‘ کے پاس غیر جنگجو فلسطینیوں کیلئے رہائشی کمپلیکس بنانے کے منصوبے ہیں۔ رائٹرز نے پریزنٹیشن سلائیڈز کا ایک مجموعہ دیکھا جس میں انسانی منتقلی کے علاقوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ ان سلائیڈز میں منصوبے کے نفاذ اور اس کی لاگت کا بھی تذکرہ ہے۔اس منصوبے میں ان وسیع سہولیات کو “مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنے” اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ’’غزہ ویژن‘‘ کے نفاذ کو آسان بنانے کیلئے استعمال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ رائٹرز آزادانہ طور پر اس منصوبے کی موجودہ حیثیت کا تعین نہیں کر سکا اور نہ ہی یہ جان سکا ہے کہ اسے منصوبے کو کس نے پیش کیا اور آیا یہ ابھی بھی زیر غور ہے یا نہیں۔غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن نے رائٹرز کے سوالات کے جواب میں ایسے کسی منصوبے کو پیش کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ سلائیڈز “غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن‘‘ کی دستاویزات نہیں ہیں۔ فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ اس نے غزہ میں محفوظ طریقے سے امداد پہنچانے کیلئے کئی نظریاتی آپشنز کا مطالعہ کیا ہے لیکن ان میں انسانی منتقلی کے علاقوں کو نافذ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

حوثی میزائل اسرائیلی فضائی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی گر گیا
صنعاء ۔ 8 جولائی (ایجنسیز) یمن کے حوثی گروپ کی طرف سے اسرائیل پر داغا گیا میزائل اسرائیلی فضائی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی گر کر تباہ ہو گیا۔ اس میزائل کو کسی بھی قسم کی روک تھام یا دفاعی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔نامہ نگار نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب فائر کیے گئے حوثی میزائل کو بروقت دیکھا گیا، تاہم یہ ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی گر گیا۔اسی دوران اسرائیلی فوج نے پیر کو ویڈیو جاری کی جس میں اس کے لڑاکا طیاروں کو یمن میں حوثیوں کے اہداف پر بمباری کیلئے روانہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان فضائی کارروائیوں میں الحدیدہ، ریس عیسیٰ اور الصلیف کے بندرگاہی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور بتایا گیا کہ 20 سے زائد لڑاکا طیاروں نے ان کارروائیوں میں شرکت کی۔
فوجی بیان کے مطابق اسرائیل نے حوثیوں کے اہداف پر 60 بم گرائے، جن میں “گلیکسی لیڈر” نامی وہ بحری جہاز بھی شامل ہے جسے حوثیوں نے کئی ماہ سے یرغمال بنا رکھا ہے۔دوسری جانب حوثی گروپ نے پیر کو ایک “منفرد اور مشترکہ” عسکری کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 11 بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائلوں کے علاوہ ایک ڈرون سے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔حوثیوں کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے ایک نشری بیان میں کہا کہ ان کی کارروائیوں میں “بن گوریون ایئرپورٹ”، “اشدود بندرگاہ”، “عسقلان پاور اسٹیشن” اور “ام الرشراش کی بندرگاہ” شامل تھے اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسرائیل کا دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا۔