غلام نبی آزاد کو ٹاملناڈو سے راجیہ سبھا منتخب کرنے کی تیاری

   

مقامی قائدین کی مخالفت، راہول گاندھی کے بااعتماد ساتھی کا نام پیش
حیدرآباد۔18 ۔اگست (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد غلام نبی آزاد کے راجیہ سبھا کے لئے نامزدگی کے معاملہ میں ٹاملناڈو کے بعض قائدین کی جانب سے اعتراضات میں پارٹی ہائی کمان کیلئے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ غلام نبی آزاد لوک سبھا میں قائد اپوزیشن کے عہدہ پر فائز تھے تاہم حالیہ عرصہ میں ان کی میعاد مکمل ہوگئی، بعد میں کانگریس نے کرناٹک سے تعلق رکھنے والے ملک ارجن کھرگے کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کرتے ہوئے انہیں راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن مقرر کیا ۔ کھرگے کا تعلق دلت طبقہ سے ہے ، لہذا انہیں فوری طور پر تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ پارٹی نے غلام نبی آزاد کو ٹاملناڈو سے راجیہ سبھا کیلئے منتخب کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے ۔ تاہم ٹاملناڈو کے نوجوان قائدین اس تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں۔ راجیہ سبھا کیلئے نامزدگی کے مسئلہ پر اولڈ بمقابلہ ینگ کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ٹاملناڈو میں راجیہ سبھا کی ایک نشست کیلئے الیکشن نوٹیفکیشن جاری کیا ہے ۔ پارٹی ہائی کمان کو غلام نبی آزاد اور پارٹی کے ڈیٹا انالٹکس سیل کے سربراہ پراوین چکرورتی کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ پراوین چکرورتی کا شمار راہول گاندھی کے بااعتماد رفقاء میں ہوتا ہے۔ مقامی قائدین کو اس بات پر اعتراض ہے کہ غلام نبی آزاد نے پارٹی قیادت کے خلاف برسر عام اظہار خیال کیا اور وہ G-23 گروپ میں شامل ہیں جس نے پارٹی قیادت کو چیلنج کیا تھا۔ ٹاملناڈو کی نشست پر حلیف جماعت ڈی ایم کے کی تائید سے ایک نشست پر کانگریس کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ R