جموں : جموں و کشمیر کے سابق ڈپٹی چیف منسٹر تارا چند نے آج کہا کہ غلام نبی آزاد کی تائید میں کانگریس سے استعفی دینا ان کی ایک بڑی غلطی تھی ۔ واضح رہے کہ سابق وزیر منوہر لال شرما اور سابق رکن اسمبلی بلوان سنگھ کو غلام نبی آزاد کی قیادت والی ڈیموکریٹک آزاد پارٹی سے خارج کردیا گیا ہے ۔ ان تینوں قائدین کی تائید میں زائد از 100 عہدیداروں اور بانی ارکان نے آزاد کی پارٹی سے استعفوں کا اعلان کردیا ہے ۔ ان تینوں قائدین نے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے تعین سے قبل عوام سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تارا چند نے تاہم کہا کہ وہ تمام اپنی آخری سانس تک سکیولر برقرار رہیں گے اور جب راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا جموں و کشمیر میںداخل ہوگی تو اس میں شمولیت پر بھی انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک آزاد پارٹی سے اخراج ان کیلئے باعث حیرت تھا ۔ اب انہیںاحساس ہو رہا ہے کہ آزاد کی تائید میں کانگریس سے مستعفی ہونا ان کی بڑی غلطی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ غلام نبی آزاد سے ان کے دیرینہ روابط تھے ۔ جب آزاد نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کی تو انہیں احساس ہوا تھا کہ انہیں بھی اپنے لیڈر کے ساتھ رہنا چاہئے اسی لئے استعفی دیا تھا تاہم اب انہیں یہ ایک بڑی غلطی لگ رہی ہے ۔ مسٹر تارا چند نے کہا کہ کانگریس نے انہیں عوامی تائید دلائی ۔ کانگریس نے انہیں مقننہ پارٹی لیڈر بنایا ۔ کانگریس نے اسپیکر بنایا اور ڈپٹی چیف منسٹر بھی بنایا ۔ ہمیں آج اپنے فیصلے پر افسوس ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے پارٹی سے دغا کی ہے ۔ ہمارے ساتھ آزاد ڈیموکریٹک پارٹی نے دغا کی ۔ انہوں نے غلام نبی آزاد پر آمرانہ روش اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے طویل سیاسی کیرئیر میں انہوں نے اس طرح کی آمریت کبھی نہیں دیکھی ۔