غیراثاثہ جاتی معاملتوں کیلئے رجسٹریشن فیس میں اضافہ کا امکان

   

حیدرآباد ۔ 14 اگست (سیاست نیوز) زرعی اراضی اور غیرزرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن کی بنیادی مارکٹ قدر کے علاوہ رجسٹریشن چارجس اور اسٹامپ ڈیوٹی میں حال میں اضافہ کرنے کے بعد ریاستی حکومت اب اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے فراہم کی جانے والی تمام خدمات کیلئے یوزر چارجس میں اضافہ کرنے آمادہ ہے۔ چنانچہ فرم رجسٹریشن، میریج رجسٹریشن، سوسائٹی رجسٹریشن وغیرہ کیلئے چارجس میں ستمبر سے اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ حکومت نے 22 جولائی سے جائیداد رجسٹریشن چارجس میں اضافہ کرتے ہوئے اس سے سالانہ 12,000 کروڑ روپئے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع کررہی ہے۔ جائیدادوں کے رجسٹریشنس کے علاوہ محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشنس کی جانب سے مختلف خدمات فراہم کی جاتی ہیں جس کیلئے محکمہ چارجس وصول کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت یہ محسوس کرتی ہیکہ موجودہ یوزر چارجس برائے نام ہیں جس پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس پر گذشتہ سات سال میں نظرثانی نہیں کی گئی۔ ان میں شادیوں، فرمس، سوسائٹیز ؍ اسوسی ایشنس، این آر آئیز، ٹرسٹس اور چٹ فنڈس اور دیگر رجسٹریشنس کئے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ جنرل پاور آف اٹارنی (جی پی اے)، اسپیشل پاور آف اٹارنی، ایکسچینج، تقسیم، لیز، وصیت ویرہ کیلئے یوزر چارجس وصول کئے جاتے ہیں۔ ان میں کئی خدمات کیلئے موجودہ چارجس 20 روپئے تا 100 روپئے کے درمیان ہیں۔ سوائے جی پی اے کے جس میں ارکان خاندان کو غیرمنقولہ جائیداد کو فروخت، منتقل یا ڈیولپ کرنے کیلئے مجاز بنایا جاتا ہے، اس کیلئے 1,000 روپئے چارجس وصول کئے جاتے ہیں۔ حکومت کا منصوبہ ان یوزر چارجس میں کافی اضافہ کرنے کا ہے۔ حکومت کوویڈ کے باعث پیدا ہونے والے مالیاتی بحران پر قابو پانے کیلئے آمدنی میں اضافہ کرنے نان۔ ٹیکس ریونیوز پر توجہ دے رہی ہے۔