این ڈی اے حکومت کے بجٹ میں کیرالا ، کرناٹک، ٹاملناڈو اور تلنگانہ نظرانداز کردیئے گئے، تلگودیشم کی تائید کے سبب آندھراپردیش کو فائدہ
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد: 24جولائی ۔ مرکزی حکومت کے بجٹ 2024-25 نے ملک میں عرصہ دراز سے جاری جنوبی ہند کی ریاستوں کے وفاق کی تیاری پر بحث کو عملی شکل دینے اور جنوبی ہند کی ریاستوں کو اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی راہ ہموار کی ہے ۔ مرکزی وزیر فینانس محترمہ نرملا سیتا رمن نے 7 ویں مرتبہ مرکزی حکومت کا بجٹ پیش کرتے ہوئے تاریخ بنائی ہے لیکن انہوں نے اس بجٹ میں جنوبی ہند کی ریاستوں بالخصوص ان ریاستوں میں جہاں اپوزیشن جماعتوں کو اقتدار حاصل ہے ان ریاستوں کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ حکومت ہند نے اپنے اتحاد کو بچانے کے لئے بجٹ تیار کیا ہے اسے ہندستان کے عوام یا ملک کی مجموعی ترقی سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ ہندستان کی جنوبی ہند کی ریاستوں بالخصوص کیرالا ‘ کرناٹک ٹاملناڈو‘ اور تلنگانہ کو پوری طرح سے نظرانداز کردیا جبکہ آندھراپردیش میں جہاں این ڈی اے اتحاد برسراقتدار ہے اس کے دارالحکومت کی ترقی کیلئے 15ہزار کروڑ کے خصوصی پیاکیج کے علاوہ دیگر ترقیاتی کاموں کو بجٹ میں حصہ فراہم کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں لیکن تمل ناڈو‘ کرناٹک ‘ کیرالا اور تلنگانہ کو پوری طرح سے نظرانداز کردیا گیا ہے۔ ملک کی معیشت میں جنوبی ہند کی ریاستو ںکے حصہ کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہندستان کی موجودہ جی ڈی پی میں 31 فیصد حصہ جنوبی ہند کی ریاستوں کا ہے اور ان ریاستوں سے حاصل ہونے والی آمدنی حکومت ہند ملک کی دیگر ریاستوں کی ترقی کے لئے خرچ کر رہی ہے اس مسئلہ پر جنوبی ہند کی ریاستوں کی جانب سے متعدد مرتبہ بحث کی جاچکی ہے اور جنوبی ہند کی ریاستوں کی انجمن یا وفاق کی تشکیل کے سلسلہ میں چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابونائیڈو اشارے دے چکے ہیں لیکن اب شائد وہ اس وفاق کا حصہ نہ بنیں کیونکہ وہ این ڈی کا حصہ ہیں اور انہیں مرکزی بجٹ میں خاطر خواہ حصہ داری حاصل ہوئی ہے جبکہ دیگر جنوبی ہند کی ریاستوں کو بری طرح سے نظرانداز کیا جاچکا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق 2030 میں ہندستان کو 7ٹریلین کی معیشت بنانے میں صرف جنوبی ہند کی ریاستیں 35 فیصد تک کا حصہ ادا کرسکتی ہیں اور ان کا حصہ مجموعی طور پر 2.5 ٹریلین ڈالر تک ہوسکتا ہے ۔ ماہرین معاشیات کی ان رپورٹس کا کے منظر عام پر آنے کے باوجود مرکزی حکومت نے بجٹ 2024-25 میں جو نا انصافی کی ہے اس کے نتائج سنگین برآمد ہوسکتے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ جنوبی ہند کی ریاستوں نے مرکزی حکومت سے بجٹ میں اپنی حصہ داری کے لئے نمائندگی نہیں کی ہے لیکن اگر مرکزی بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو ملک کی معیشت میں سب سے زیادہ حصہ فراہم کرنے والی ریاست مہاراشٹرا کو بھی بری طرح سے نظرانداز کیا گیا ہے جبکہ مہاراشٹرا میں آئندہ چند ماہ کے دوران ریاستی اسمبلی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں اسی طرح اترپردیش کے ساتھ بھی بجٹ میں ناانصافی ہوئی ہے ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس بجٹ میں ان ریاستوں کے ساتھ مکمل ناانصافی کی گئی ہے جن ریاستوں نے بی جے پی کو لوک سبھا انتخابات میں سادہ اکثریت سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اور ان ریاستوں کو مودی حکومت نے بھاری پیاکیج فراہم کئے ہیں جہاں اقتدار میں موجود سیاسی جماعتوں کی بیساکھی پر ان کی حکومت ٹکی ہوئی ہے۔ مرکزی بجٹ سے قبل کیرالہ مرکزی حکومت کی جانب سے قرض کے حصول کی حد پر پابندی عائد کئے جانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوچکا ہے اور سپریم کورٹ میں حکومت کیرالہ کی درخواست پر سماعت جاری ہے ۔ اسی طرح حکومت کرناٹک نے بھی مرکزی بجٹ میں ریاست کے حصہ کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے ۔جاریہ سال کے اوئل میں تمل ناڈو حکومت نے بھی مرکزی حکومت کے سوتیلے سلوک کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے درخواست دائر کی ہے جو سماعت کے لئے قبول کی جاچکی ہے۔ جنوبی ہند کی ریاستوں کو بجٹ میں نظرانداز کئے جانے کی شکایات کے دوران آندھراپردیش کے لئے خصوصی پیاکیج اور دیگر پراجکٹس کا بجٹ میں تذکرہ کئے جانے سے ایسا لگتا ہے کہ مرکزی حکومت نے تلگو دیشم کی تائید کی قیمت ادا کرنے کی کوشش کی ہے ۔حکومت کرناٹک کی جانب سے پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق کرناٹک مرکز کو 4لاکھ 30ہزار کروڑ سالانہ ٹیکس کی شکل میں ادا کررہا ہے لیکن اسے محض 13 فیصد آمدنی واپس کی جا رہی ہے ۔ حکومت کرناٹک نے مرکز سے 14ویں فینانس کمیشن کی سفارشات کے مطابق ریاست کو 5ہزار495 کروڑ کی خصوصی گرانٹ دینے کی مانگ کی تھی ۔ اسی طرح حکومت کیرالہ کی جانب سے مرکزی حکومت کی اسکیمات میں حصہ کے اداشدنی 3ہزار 686 کروڑ کی اجرائی کی مانگ رکھی تھی لیکن اسے بھی پورا نہیں کیاگیا ۔اس کے علاوہ کیرالہ نے مرکزی حکومت سے 24ہزار کروڑ کی خصوصی گرانٹ منظور کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کا کوئی تذکرہ بجٹ میں نہیں ہے۔ حکومت تمل ناڈو نے مرکزی حکومت سے چینائی میٹرو ریل پراجکٹ کے دوسرے مرحلہ کی منظوری کے علاوہ کوئمبتوراور مدورائی میٹرو ریل پراجکٹ کی منظوری اور اس کے لئے فنڈس کی تخصیص کا مطالبہ کیا تھا اور اس سلسلہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کیا تھا اور ملاقات کرتے ہوئے نمائندگی بھی کی تھی لیکن اس کا بھی کوئی تذکرہ مرکزی بجٹ میں نہیں کیاگیا۔ اسی طرح چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر اے ریونت ریڈی نے بھی اقتدار حاصل کرنے کے بعد متعدد مرتبہ مرکزی وزراء سے ملاقاتوں کے دوران موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ‘ حیدرآباد میٹروریل کی توسیع کے علاوہ گذشتہ برسوں کے دوران ریاست کو وصول طلب بقایا جات اور ریجنل رنگ روڈ کی تعمیر و ترقی کے سلسلہ میں متعدد نمائندگیاں کی لیکن ان نمائندگیوں کو بھی مرکز نے بری طرح سے نظرانداز کردیا اور تلنگانہ کا بھی اس بجٹ میں کوئی تذکرہ نہیں کیاگیا۔ چیف منسٹر تمل ناڈو مسٹر ایم کے اسٹالین اور چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا نے مرکزی بجٹ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے 27 جولائی کو نیتی آیوگ کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے جو کہ وزیر اعظم کی صدارت میں منعقد ہونے جا رہاہے۔ جنوبی ہند کی ریاستوں کے ان دو چیف منسٹرس کی جانب سے اگر نیتی آیوگ کے اجلاس کے بائیکاٹ کی تحریک کو شدت حاصل ہوتی ہے تو ایسی صورت میں کیرالہ اور تلنگانہ کے چیف منسٹرس کی جانب سے بھی اس اجلاس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے مرکز پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے دعوے کے مطابق 15ویں فینانس کمیشن کی سفارشات کے مطابق ریاستوں کو فراہم کئے جانے والے حصہ کو ان کی جانب سے دی جانے والی آمدنی کے 41 فیصد حصہ پر محدود رکھا گیا ہے ۔