ایسے بچے ہی مستقبل کی قیادت اور اختراع کا اصل سرمایہ‘ٹرمپ کا تاثر
واشنگٹن۔15 ؍جنوری ( ایجنسیز ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غیرمعمولی ذہانت اور سائنسی فہم کا مظاہرہ کرنے والے 7 سالہ بچے کو صدارتی میڈل سے نواز دیا۔یہ اعزاز اس وقت دیا گیا جب کمسن بچے نے صدر ٹرمپ کو دودھ کی پراسیسنگ سے متعلق مکمل اور تکنیکی انداز میں آگاہ کیا جس پر صدر بہت متاثر نظر آئے۔تقریب کے دوران بچے نے نہایت اعتماد کے ساتھ دودھ کی صفائی، پراسیسنگ اور محفوظ بنانے کے مراحل کی وضاحت کی جسے سن کر صدر ٹرمپ نے اس کی ذہانت اور سیکھنے کی صلاحیت کو سراہا۔ صدر نے کہا کہ اتنی کم عمر میں اس قدر واضح اور جامع معلومات غیر معمولی بات ہے۔اس موقع پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدارتی میڈل عام طور پر بڑے سیاستدان، کاروباری شخصیات اور بااثر افراد حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن آج وہ یہ اعزاز ایک ایسے بچے کو دے رہے ہیں جس نے اپنی ذہانت اور علم سے سب کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بچے ہی مستقبل کی قیادت اور اختراع کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔تقریب میں موجود شرکاء نے بھی بچے کی کارکردگی اور اعزاز پر خوشی کا اظہار کیا جبکہ سوشل میڈیا پر اس واقعے کو خوب سراہا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بچوں میں سیکھنے اور تحقیق کا شوق مزید بڑھے گا۔
پوتن نہیں، زیلنسکی امن معاہدہ میں رکاوٹ :ٹرمپ
واشنگٹن، 15 جنوری (یو این آئی) صدر ٹرمپ نے بتایا ہے کہ روس نہیں یوکرین ممکنہ امن معاہدہ میں رکاوٹ بن رہا ہے ، جو یورپی اتحادیوں کے بیانات کے بالکل برعکس ہے ، جنہوں نے مسلسل یہ دلیل دی ہے کہ ماسکو کو یوکرین میں اپنی جنگ ختم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ چہارشنبہ کو اوول آفس میں ایک خصوصی انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدرپوتن یوکرین میں اپنی تقریبا چار سالہ جنگ ختم کرنے کیلئے تیار ہیں البتہ صدر زیلنسکی زیادہ محتاط تھے ۔ ٹرمپ نے روسی صدر کے بارے میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ معاہدہ کرنے کیلئے تیار ہیں مگر یوکرین معاہدہ کے لیے کم تیار نظر آتا ہے ۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ امریکہ کی قیادت میں مذاکرات نے ابھی تک یورپ کے سب سے بڑے زمینی تنازعہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد کیوں حل نہیں کیاتو ٹرمپ نے جواب دیا کہ اس کی وجہ زیلنسکی ہیں۔ ٹرمپ کے بیانات یوکرینی رہنما سے دوبارہ مایوسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ دونوں صدور کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں، اگرچہ ٹرمپ کے پہلے سال کے دوران ان کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ کئی اتار چڑھاؤ کے بعد حالیہ ہفتوں میں امریکی قیادت میں مذاکرات جنگ کے بعد یوکرین کیلئے سیکیورٹی ضمانتوں پر مرکوز رہے ہیں تاکہ روس ممکنہ امن معاہدہ کے بعد دوبارہ اس پر حملہ نہ کرے ۔ وسیع معنوں میں امریکی مذاکرات کاروں نے روس کے ساتھ کسی بھی معاہدہ کے تحت یوکرین کو مشرقی دونباس کے علاقے کو چھوڑنے پر مجبور کیا ہے ۔ یوکرینی حکام حالیہ مذاکرات میں شامل رہے ہیں جن کی قیادت امریکی جانب سے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر نے کی تھی ، کچھ یورپی حکام نے حال ہی میں کیف، واشنگٹن اور یورپی رہنماؤں کی جانب سے طے شدہ کچھ شرائط پر پوتن کے اتفاق پر شک ظاہر کیا ہے ۔ ٹرمپ نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ وٹکوف اور کوشنر کے ماسکو کے ممکنہ دورے سے آگاہ نہیں ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اگلے ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاوس میں زیلنسکی سے ملاقات کریں گے تو ٹرمپ نے کہا کہ وہ کریں گے لیکن اشارہ دیا کہ کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے ۔
ٹرمپ کے اراد وں سے گرین لینڈ کے لوگ خوفزدہ
گرین لینڈ، 15 جنوری (یو این آئی) گرین لینڈ کے رہائشی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ پر قبضے کے بیان پر شدید تشویش اور پریشانی کا شکار ہیں۔ گرین لینڈ کے مغربی ساحلی شہر الیولِسات سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر جوئل ہینسن نے ‘الجزیرہ’ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘وہ امریکہ کے زیرِ اقتدار آنے کے تصور سے خوفزدہ ہیں۔’ ماہی گیر کا کہنا ہے کہ ‘میں امریکی بننے سے ڈرتا ہوں، میں نے الاسکا کے انوئٹس (برفانی علاقوں کے رہائشی) کی مشکلات دیکھی ہیں، مجھے ڈنمارک کے ساتھ رہنا بہتر لگتا ہے ، مجھے گرین لینڈ میں آزادانہ کام کرنے کی سہولت حاصل ہے ۔’ ماہی گیر ہینسن نے کہا کہ ‘ہمارے پاس اتنی معدنیات ہیں کہ ہم خود ایک قوم بن سکتے ہیں، ہمیں ٹرمپ کے پیسے کی ضرورت نہیں۔’ دوسری جانب غیر ملکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کی دلچسپی صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ گرین لینڈ کے وسیع معدنی ذخائر بھی ہیں جن میں نایاب عناصر شامل ہیں جو جدید ٹیکنالوجی اور فوجی سازوسامان کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
ٹرمپ کا رضا پہلوی پر عدم اعتماد کا کھل کر اظہار
واشنگٹن، 15 جنوری (یو این آئی) امریکی صدر ٹرمپ نے شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی پر عدم اعتماد کا کھل کر اظہار کیا ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے غیر ملکی میڈیا کے ساتھ اوول آفس میں خصوصی انٹرویو میں رضا پہلوی کی ایران میں عوامی حمایت پر سوال اٹھا دیا۔ انھوں نے کہا ایران کی مذہبی حکومت گرسکتی ہے ، مگر پہلوی کی کامیابی کے بارے میں مجھے یقین نہیں۔ انھوں نے کہا احتجاج کے باعث تہران کی حکومت گرنے کا امکان ہے ، حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی نظام ناکام ہوسکتا ہے ، چاہے وہ حکومت گرتی ہے یا نہیں، یہ بہت دلچسپ وقت ہوگا۔
