بیرونی شہریوں کو ان کے ملک بھیجنے حکومت ہریانہ کو حکم۔ فیصلے کا خیرمقدم :مولانا ارشدمدنی
نئی دہلی۔ 26 مئی (سیاست ڈاٹ کام)ہریانہ کی ایک عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے سبھی 6 ممالک کے 57 غیرملکی جماعتیوں پرغیرملکی قوانین کے تحت عائد تمام دفعات کو بے بنیاد تسلیم کرتے ہو ئے سبھی جماعتیوں کو بری کردیا اورہریانہ حکومت کو حکم دیا کہ جلد سے جلد سبھی جماعت والوں کو ان کے ملک بھیجنے کا انتظام کرے ۔یہ بات جمعے ۃ کی ریلیز میں کہی گئی ہے ۔ریلیز کے مطابق ان غیر ملکی جماعت والوں کو میوات پولیس نے 2اپریل کواپنی تحویل میں لیکر ان سبھی کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ ایف آئی آر میں ان کے خلاف وبا اور غیرملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی دفعات تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے غیرملکی جماعتیوں کو ملزم مانتے ہوئے سبھی دفعات کے تحت عدالت میں چالان پیش کیا تھا۔اس معاملے میں میوات کے ضلع نوح میں لاک ڈاؤن میں پھنسے غیرملکی جماعتیوں کو لے کر نوح کی سی جی ایم وشال کی عدالت نے ایک بڑا فیصلہ سنایا ہے ۔ عدالت نے سبھی چھ ممالک کے 57 غیرملکی اور ایک ہندوستانی مترجم پر دفعہ 188 کے تحت حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کا ملزم قرار دیتے ہوئے سبھی پر ایک ایک ہزار رپئے کا جرمانہ عائد کیا ہے جسے ملزمین کی طرف سے اسی وقت عدالت میں ممبراسمبلی آفتاب احمدنے اپنی طرف سے ادا کر دیا۔ عدالت نے غیرملکی قوانین کے تحت لگائی گئی تمام دفعات کو بے بنیاد مانتے ہوئے سبھی کو بری کردیا جس میں ا نڈونیشیا کے 11، سری لنکا کے 24،ساؤتھ افریقہ کے 5، بنگلہ دیش کے 11، تھائی لینڈ کے 6 اور نیپال کے ایک جماعتی شامل ہیں۔واضح ہو کہ تبلیغی جماعت کے یہ سبھی لوگ لاک ڈاؤن سے پہلے میوات کے مختلف گاؤوں میں جماعت میں آئے ہوئے تھے ۔ ان غیرملکی جماعتوں میں بنگلہ دیش کی ایک جماعت میں پانچ خواتین بھی اپنے شوہروں کے ساتھ شامل تھیں۔ نوح بار ایسوسی ایشن کے ایڈوکیٹ شوکت علی نے چالان پر عدالت میں بحث کی۔ انہوں نے عدالت کے سامنے غیرملکی جماعتیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے جو غیرملکی قانون اور وبا کی دفعات لگائی ہیں وہ غلط ہیں کیونکہ میوات میں آئے جماعتیوں نے کسی بھی غیرملکی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے ۔