؟ عرب شیخ مودی کے بھائی …ہندوستانی مسلمان سے نفرت کیوں
گھر میں نماز پر کارروائی… یوگی حکومت ہندوتوا کی تجربہ گاہ
رشیدالدین
’’میں اپنے بھائی کے استقبال کیلئے ایرپورٹ آیا ہوں‘‘۔ یہ الفاظ وزیراعظم نریندر مودی کے ہیں۔ یہ جملہ سن کر آپ کو شاید گمان ہوکہ نریندر مودی کے کوئی حقیقی یا رشتہ کے بھائی ہندوستان آئے ہیں جن کے استقبال کے لئے وہ ایرپورٹ پہونچے ہوں گے۔ معاملہ کچھ اور ہی ہے۔ گزشتہ دنوں نریندر مودی نے یہ الفاظ اُس وقت ادا کئے جب متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان ہندوستان کے دورہ پر پہونچے تھے۔ شیخ محمد بن زید کا یہ دورہ چند دن یا پھر چند گھنٹے کا نہیں بلکہ محض 90 منٹ کا تھا۔ نریندر مودی نے شیخ زید کے استقبال کی تصاویر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر اور اپنے بھائی شیخ محمد بن زید النہیان کے استقبال کے لئے ایرپورٹ پہونچا۔ مودی کا یہ ٹوئٹ پڑھنے کے بعد لوگ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ مودی کے بھائی عرب ملک کے صدر کب اور کیسے ہوگئے؟ کسی مسلمان کو مودی اپنا بھائی کہہ دیں اُس کا یقین کرنا آسان نہیں۔ نریندر مودی نے شیخ زید کو صرف بھائی کہا نہیں بلکہ اپنے والہانہ استقبال کے عمل سے ثابت کردیا کہ وہ شیخ زید کے حقیقی بھائی کی طرح محبت اور خلوص نچھاور کررہے ہیں۔ اپنے بھائی کے استقبال کے لئے ایرپورٹ پہونچنے کا جملہ گودی میڈیا نے خوب اُچھالا لیکن یہ جملہ ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں میں تیر کی طرح پیوست ہوگیا۔ وہ اِس لئے کہ ملک میں مودی حکومت کے مسلمانوں کے ساتھ سلوک سے ہر کوئی واقف ہے۔ باہری مسلمان اور خاص طور پر عرب ممالک کے حکمرانوں سے ملاقات یا اُن کے استقبال کے وقت نریندر مودی کچھ اِس طرح ٹوٹ کر ملتے ہیں جیسے میلے میں بچھڑے بھائی برسوں بعد ملے ہوں۔ مودی کے ’’وارے جاؤں پھیرے جاؤں‘‘ سلوک سے عرب حکمراں بھی یہ گمان کرتے ہوں گے کہ جو شخص ہمارے ساتھ وارفتگی کا جو مظاہرہ کررہا ہے وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی محبت اور خلوص کا مظاہرہ کرتا ہوگا۔ وزیراعظم نے عرب مہمان کے استقبال کی 4 مختلف تصاویر کو پوسٹ کرتے ہوئے انگلش کے ساتھ عربی میں بھی ٹوئٹ کیا۔ ایک تصویر جذباتی انداز میں بغلگیر ہونے اور دوسری کار میں بیٹھ کر شیخ کا ہاتھ تھام لینے کی تھی اور دونوں میں مودی کی اداکاری عروج پر دکھائی دے رہی تھی۔ ایسے محسوس ہورہا تھا کہ نریندر مودی کی زبان پر مقبول عام فلمی نغمہ ’’کب کے بچھڑے ہوئے ہم آج یہاں آ کے ملے‘‘ تھا۔ عرب سربراہ کے استقبال کے لئے مودی پروٹوکول کو توڑ کر ایرپورٹ پہونچ گئے۔ عرب سربراہان مملکت کے لئے پروٹوکول نظرانداز کرنا کوئی حیرت کی بات نہیں اِس لئے کہ مہمان ہندوستانی مسلمان نہیں ہیں۔ 2019ء میں متحدہ عرب امارات کے ولیعہد کا استقبال بھی مودی نے پروٹوکول کو نظرانداز کرتے ہوئے کیا تھا۔ دنیا کے دیگر ممالک اور خاص طور پر عرب ممالک سے بہتر تعلقات ہندوستان کے مفاد میں ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عرب ممالک کے شیخ اور سلطانوں سے جو محبت کا اظہار کیا جاتا ہے وہ ملک کے مسلمانوں کے ساتھ کیوں دکھائی نہیں دیتا۔ نریندر مودی کے لئے باہری مسلمان، شیخ، سلطان، خلیفہ، پرنس اور کراؤن پرنس کیوں نہ ہوں وہ بھائی اور دوست بن جاتے ہیں جبکہ ملک کا مسلمان دیش دروہی، درانداز، زیادہ بچے پیدا کرنے والا، لباس سے پہچانے جانے والا، مُلّا، کٹ مُلّا، پنکچر بنانے والا نہ جانے کن کن القاب سے نوازا جاتا ہے۔ لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران مودی ۔ امیت شاہ نے مسلمانوں کے بارے میں جو الفاظ استعمال کئے تھے وہ آج بھی عوام کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ نفرتی عناصر کیا کچھ نہیں کہہ رہے ہیں لیکن مودی حکومت اُنھیں خاموش بھی کرنا گوارہ نہیں کرتی کیوں کہ اِن تمام کا اصل مقصد ہندو راشٹرا کی تشکیل ہے۔ جہاں تک لباس سے پہچاننے کا معاملہ ہے عرب شیخ، خلیفہ اور پرنس بھی اپنے لباس سے ہی پہچانے جاتے ہیں لیکن پھر بھی وہ مودی کے بھائی ہیں کیوں کہ وہ تیل والے ہیں جبکہ ہندوستان کا مسلمان بقول سنگھ پریوار ملک کے وسائل میں حصہ داری مانگ رہا ہے۔ کانگریس پارٹی پر ہندو خواتین کا منگل سوتر چھین کر مسلمانوں کو حوالہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، عرب سربراہوں سے مودی کی محبت اور گرمجوشی پر کسی نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ بھی ہمیشہ عربی لباس پہننا شروع کردیں۔ شاید لباس دیکھ کر مودی کے دل میں ہمدردی پیدا ہوجائے۔ ہر طرف عربی لباس نظر آئے تو مودی گلے ملتے ملتے تھک جائیں گے۔ گزشتہ 12 برسوں میں نریندر مودی کی طرز حکومت اور اُن کے ذہن کو دیکھنے کے بعد کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ عرب حکمرانوں سے جھوٹی محبت کا اظہار محض مطلب کے لئے ہے۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ مودی کے گلے پڑنے اور اداکاری سے خوش ہونے والے عرب حکمرانوں کو ہندوستان میں مسلمانوں اور اُن کے ساتھ مودی حکومت کے سلوک کے بارے میں سوال کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ عرب اور اسلامی ممالک میں دیگر مذاہب کے ساتھ رواداری کا جو سلوک ہے اِس سے مودی حکومت کو سبق لینا چاہئے۔ یہ وہی متحدہ عرب امارات کے حکمراں ہیں جنھوں نے اپنی سرزمین پر عالیشان مندر کی تعمیر کے لئے نہ صرف اراضی الاٹ کی بلکہ تعمیر میں مدد کی۔ عرب حکمرانوں کے پاس تیل، درہم اور دینار ہیں اور اُن کے ساتھ امپورٹ اکسپورٹ کے معاملات ضروری ہیں۔ عرب ممالک جب تک ہندوستان میں سرمایہ کاری کرتے رہیں گے اُس وقت تک وہ مودی کے بھائی بنے رہیں گے۔ عرب شیوخ کا پروٹوکول توڑ کر ریڈ کارپیٹ استقبال کیا جاتا ہے لیکن ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجہ کے شہریوں جیسا سلوک ہے۔ مسلمانوں کی حب الوطنی پر شبہات، پاکستانی اور بنگلہ دیشی ہونے کا الزام روز کا معمول بن چکا ہے۔ عرب شیوخ ہوں یا ہندوستانی مسلمان دونوں کا مذہب ایک ہی ہے لیکن دونوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں؟ آخر دوہرا معیار کب تک رہے گا؟ عرب حکمرانوں کے ساتھ گرمجوشی کا کچھ حصہ بھی اگر ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ کیا جائے تو مسلمان اپنے ملک میں غیریت محسوس نہیں کرے گا لیکن افسوس کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مودی اینڈ کمپنی کی مسلمانوں کے ساتھ نفرت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ عرب شیوخ کے ساتھ تجارتی معاہدات اور ملک کے مسلمانوں کا تجارتی اور سماجی بائیکاٹ۔ کئی ریاستوں میں بی جے پی اور سنگھ قائدین نے کھلے عام مسلمانوں سے تجارت نہ کرنے اور سماجی بائیکاٹ کی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ معمولی باتوں پر ماب لنچنگ کے ذریعہ مسلمانوں کی ہلاکتوں، مساجد، درگاہوں، مزارات، دوکانات اور مکانات پر بلڈوزر کارروائیاں جاری ہیں۔ جلسوں میں مودی ۔ امیت شاہ نے مسلمانوں کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا۔ ایک مرکزی وزیر نے ’’دیش کے غداروں کو گولی مارو … کو‘‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ لوک سبھا میں مسلم رکن دانش علی کو کٹھ مُلّا اور دہشت گرد کہا گیا۔ مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے اکٹوبر 2025ء میں کہا تھا کہ مسلمان نمک حرام ہیں اُن کا ووٹ نہیں چاہئے۔ مسلمانوں پر لو جہاد، لینڈ جہاد، تھوک جہاد نہ جانے کن کن جہادوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حد تو یہ ہوگئی کہ آپریشن سندور کی قیادت کرنے والی کرنل صوفیہ قریشی کو دہشت گردوں کی بہن قرار دیا گیا لیکن آج تک بی جے پی وزیر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔
متحدہ عرب امارات کے جس حکمراں کو مودی نے گلے لگایا اُنھوں نے اپنی سرزمین پر مندر کی تعمیر کی اجازت دی لیکن ہندوستان میں مسلمانوں کے اپنے گھر میں عبادت پر بھی پابندی عائد کی جارہی ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آگے چل کر گھر میں عبادت پر بھی پہرے بٹھادیئے جائیں گے۔ بریلی میں 15 مسلمانوں نے اپنے گھر میں جمعہ کی نماز محض اِس لئے ادا کی کہ کیوں کہ گاؤں میں کوئی مسجد یا مدرسہ نہیں ہے۔ دوسرے گاؤں کو جمعہ کی ادائیگی کے لئے جانے کی زحمت سے بچنے کے لئے اُنھوں نے ایک زیرتعمیر مکان میں نماز جمعہ ادا کی۔ کسی فرقہ پرست نے پولیس کو ویڈیو روانہ کیا اور پولیس نے کچھ ایسا دھاوا کیا جیسے مکان میں مسلمان نہیں بلکہ دہشت گرد ہوں۔ 12 مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا اور 3 کی تلاش ابھی جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بریلی کا محمد گنج نامی یہ گاؤں 1500 کی آبادی پر مشتمل ہے جس میں 1200 مسلمان ہیں۔ مسلم اکثریتی گاؤں کے باوجود یہاں کوئی مسجد یا مدرسہ نہیں ہے۔ مکان میں نماز کی ادائیگی یقینا کوئی جرم نہیں ہے اِسی لئے عدالت نے بھی گرفتار شدگان کو فوری ضمانت منظور کردی۔ اترپردیش کی یوگی حکومت میں کچھ بھی ممکن ہے اور پولیس عہدیداروں کو یوگی آدتیہ ناتھ کے ایجنڈہ پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ مقامی پولیس کی سربراہ نے نمازیوں کی گرفتاری کو ایک کارنامہ کے طور پر سوشل میڈیا میں پیش کیا لیکن جیسے ہی دنیا بھر سے تنقیدیں شروع ہوگئیں، خاتون عہدیدار نے اپنا پوسٹ ڈیلیٹ کردیا۔ گھروں میں جہاں تک عبادت کا سوال ہے بیشتر تہواروں کے موقع پر ہندو برادری اپنے گھر اور اُس کے باہر اجتماعی پوجا کا اہتمام کرتے ہیں لیکن مسلمانوں نے کبھی بھی اعتراض نہیں کیا۔ گنیش وسرجن کے موقع پر سڑکوں پر منڈپ لگائے جاتے ہیں لیکن مسلمانوں نے کسی سے شکایت نہیں کی۔ جب مسلمان مذہبی رواداری کا مظاہرہ کررہے ہیں تو پھر یوگی حکومت کو مسلمانوں کی نماز پر اعتراض کیوں؟ اترپردیش میں کرسمس کے موقع پر بجرنگ دل اور دیگر تنظیموں کے عناصر نے چرچس میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور باہر ہندو رسومات ادا کرتے ہوئے عیسائیوں کو کرسمس منانے سے روکا گیا۔ اُس وقت یوگی آدتیہ ناتھ حکومت خاموش تماشائی بنی رہی اور عیسائیوں کو کوئی تحفظ نہیں ملا۔ بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں مسلم اور عیسائی عبادت گاہوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اترپردیش میں گزشتہ دنوں مزارات پر بلڈوزر چلادیئے گئے لیکن سب کا ساتھ سب کا وکاس نعرہ لگانے والے نریندر مودی کو شاید یہ دکھائی نہیں دیتا اور وہ ایرپورٹ پر عرب شیوخ کی آمد کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔عرب مہمانوں پر مودی کی وارفتگی پر ہمیں ساحر لدھیانوی کا مقبول عام نغمہ یاد آگیا ؎
غیروں پہ کرم ، اپنوں پہ ستم
اے جانِ وفا یہ ظلم نہ کر