عہدیداروں کو جی ایچ ایم سی ایکٹ کی ٹریننگ دی جائے، ڈیویژن بنچ کی ہدایت
حیدرآباد۔ 17 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے رنگاریڈی کے شاستری پورم اور ٹاٹا نگر علاقوں میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے بعض گوداموں کے خلاف کی گئی کارروائی پر حیرت کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے عہدیدار کس طرح اس نتیجہ پر پہنچے کہ ٹائلس کے گودام سے آلودگی پھیل رہی ہے۔ عدالت نے بس پینٹ کرنے سے متعلق یونٹ اور آئرن اور اسٹیل اسکراپ گودام کو آلودگی کا سبب بتانے پر اعتراض جتایا۔ عدالت نے کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار کو ہدایت دی کہ وہ اپنے عہدیداروں کو جی ایچ ایم سی ایکٹ کے بارے میں ٹریننگ دیں۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس ڈی وجئے سین ریڈی نے گوداموں کو دی گئی وجہ نمائی نوٹس اور بند کرنے سے متعلق نوٹسوں کا جائزہ لیا۔ تاجروں نے جی ایچ ایم سی کی نوٹس کو عدالت میں چیلنج کیا۔ عدالت نے پلاسٹک کیمیکل اور دیگر آلودگی پیدا کرنے والی صنعتوں کے خلاف کارروائی اور نوٹسوں کی اجرائی میں یکسانیت نہ ہونے پر کمشنر جی ایچ ایم سی کو طلب کیا تھا۔ کمشنر بلدیہ کووڈ۔19 پر اعلی سطحی اجلاس کے سبب عدالت میں حاضر نہیں ہوئے۔ ایڈوکیٹ جنرل ڈی ایس پرساد نے کمشنر بلدیہ کی عدم شرکت کی وجوہات سے واقف کرایا۔ عدالت نے کہا کہ بلدیہ نے اندرون 7 یوم جواب دینے کے لیے وجہ نمائی نوٹس جاری کی جبکہ صرف 3 دن میں بند کرنے کی نوٹس جاری کردی گئی اور تاجروں کو شوکاز نوٹس کا جواب دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔ عدالت نے آلودگی پیدا کرنے والی صنعتوں کے نام پر ٹائلس کے گودام کو نوٹس کے بارے میں سوال کیا۔ عدالت نے پوچھا کہ کونسے ٹائلس کے تاجر نے ٹائلس کو جلایا ہے۔ ایک جج نے شبہ ظاہر کیا کہ غلط نوٹسوں کی اجرائی بلدیہ کی حکمت عملی کا حصہ ہے جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ نوٹسوں میں غیر یکسانیت کو دور کیا جانا چاہئے۔ عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کو ہدایت دی کہ وہ کمشنر بلدیہ کو بتائیں کہ نوٹسوں کی اجرائی کے سلسلہ میں جائز وجوہات پیش نظر رکھیں۔