غیر زرعی اراضیات رجسٹریشن پر کابینی سب کمیٹی

   

Ferty9 Clinic

مشاورت سے رہنما خطوط تیار کرنے چیف منسٹر کی ہدایت
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو نے آج ایک کابینی سب کمیٹی تشکیل دی جو ریاست میں غیر زرعی اراضیات اور دوسری جائیدادوں کے رجسٹریشن کیلئے رہنما خطوط کو قطعیت دے گی ۔ یہ سب کمیٹی ریاستی وزیر عمارات و شوارع مسٹر وی پرشانت ریڈی کی قیادت میں کام کریگی اور اس میں وزیر بلدی نظم و نسق و آئی ٹی مسٹر کے ٹی راما راو ‘ وزیر پنچایت راج ای دیاکر راو ‘ وزیر داخلہ محمد محمود علی اور وزیر افزائش مویشیان ٹی سرینواس یادو بھی شامل رہیں گے ۔ چیف منسٹر نے سب کمیٹی سے کہا کہ وہ بلڈرس ‘ رئیل اسٹیٹ تاجروں اور سماج کے مختلف طبقات کے تاھ تین تا چار دن میں تبادلہ خیال کریںا ور ان کے جذبات و احساسات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے حکمت عملی اور ایکشن پلان تیار کریں۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راو نے آج اس مسئلہ پر ریاستی وزراء اور سینئر عہدیداروں کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا ۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ غیر زرعی جائیدادوں اور اراضیات کا رجسٹریشن شفاف انداز میں کیا جائے ۔ اس میں کسی بھی عہدیدار کو غیر معمولی احتیارات حاصل نہ رہیں اور عوام کو کسی طرح کی رشوت دینے پر مجبور نہ ہونا پڑے ۔ چیف منسٹر نے دھرانی پورٹل کے ذریعہ ہونے والی زرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن سے متعلق تفصیلات بھی طلب کیں۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کسان دھرانی پورٹل کے ذریعہ اراضیات رجسٹر کروانے میں خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ زرعی اراضیات کا رجسٹریشن دھرانی پورٹل کے ذریعہ آسان اور شفاف انداز میں کیا جا رہا ہے اور کسان اس سے مطمئن ہیں۔انہوں نے کہا کہ غْر زرعی اراضیات و جائیدادوں کا رجسٹریشن بھی اسی انداز میں کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ وجوہات کی بنا پر 70 تا 80 دن رجسٹریشن رکا رہا تھا جس سے کچھ مشکلات ہوئیں تاہم اب یہ عمل بلا تاخیر شروع کیا جانا چاہئے ۔