غیر زرعی جائیدادوں کا سروے ، جی ایچ ایم سی عملہ کو عوام کا عدم تعاون

   

عقبی دروازہ سے این آر سی و این پی آر کی تکمیل ، علماء کرام کی اپیل کا عوام پر زبردست اثر
حیدرآباد۔ ریاست میں حکومت کی جانب سے کروائے جانے والے غیر زرعی جائیدادوں کے سروے میں حصہ لینے سے عوام انکار کرنے لگے ہیں جو کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ( جی ایچ ایم سی ) کے عملہ کے لئے درد سر بنتا جا رہا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاقوں میں جہاں آن لائن سروے کے علاوہ فارمس تقسیم کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ان علاقوں میں شہریوں کی جانب سے اس سروے میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا جا رہاہے لیکن اب تک کسی بھی سیاسی گوشہ سے اس سروے کی مخالفت نہیں کی جار ہی ہے بلکہ بعض مقامات پر منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے شہریوں کو اس بات کی تلقین کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی تفصیلات بلدی عملہ کو فراہم کریں اور سیاسی جماعتو ںکے کارکنوں کو بلدی عملہ کے ساتھ روانہ کیاجا رہاہے تاکہ شہریوں کی تفصیلات کے حصول میں جی ایچ ایم سی کے عملہ کو تعاون حاصل ہوسکے ۔ حکومت کی جانب سے جی ایچ ایم سی کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں کئے جانے والے دھرانی پورٹل کے اس سروے سے عوام میں میں تجسس پیدا ہونے لگا ہے اورکہا جا رہاہے کہ حکومت پچھلے دروازہ سے این آر سی اور این پی آر کا کام مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہر حیدرآباد کے علاقو ںمیں کئے جانے والے سروے کے دوران مسلم بستیوں اور محلہ جات میں عملہ کو تعاون حاصل نہیں ہورہا ہے ۔ جمیعۃ العلمائے ہند تلنگانہ و آندھراپردیش کے صدر مولانا حافظ پیر شبیر احمد کے علاوہ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ ‘ مولانا مفتی غیاث رحمانی اور مولانا مفتی عبدالمغنی مظاہری کی جانب سے اس سروے میں حصہ نہ لینے کی اپیل کے بعد شہریوں میں پائے جانے والے شبہات کو تقویت حاصل ہونے لگی ہے اور اب شہری واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں وہ اس سروے میں حصہ لینے کے حق میں نہیں ہیں اور بلدی عملہ کو واپس کیا جانے لگا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقوں سوماجی گوڑہ‘ جہانما‘ کالا پتھر ‘ فلک نما‘ راجندر نگر‘ لکڑی کا پل اور دیگر علاقوں سے اس بات کی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ ان علاقوںسے بلدی عملہ کو واپس روانہ کردیا گیا ہے اور شہریوں کی بڑی تعداد نے حکومت کی جانب سے سروے میں حصہ لینے سے انکار کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے آدھار کارڈ کسی بھی مقصد سے طلب نہ کرنے کے احکامات کے باوجود دھرانی پورٹل کے لئے آدھار کارڈ کی تفصیلات طلب کی جا رہی ہیں اور مالک جائیداد کے ساتھ ساتھ مکان میں رہنے والوں کے آدھار کارڈ اور ان کی مکمل تفصیلات طلب کئے جانے کے سبب عوام کے شبہات میں اضافہ ہونے لگا ہے جس کی وجہ سے دھرانی پورٹل کے لئے کئے جانے والے سروے کے مکمل ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے عوام کی جانب سے استفسار کیا جا رہاہے کہ ریاست میں حکومت کی جانب سے کروائے گئے سروے کا ڈاٹا موجود رہنے کے باوجود کیوں یہ سروے کروایا جا رہاہے جو عوام میں شبہات پیدا کرنے کا سبب ہے۔