غیر زرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن میں کئی مشکلات درپیش

   


سسٹم میں تبدیلی باقی، دفاتر سے عوام کو مایوسی، ایل آر ایس منسوخ کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد: حکومت نے غیر زرعی جائیدادوں اور اراضیات کے رجسٹریشن کے سلسلہ میں قدیم طریقہ کار کے تحت رجسٹریشن کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم دیگر شرائط کی بناء پر رجسٹریشن کے عمل میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر حکومت نے آدھار اور دیگر نجی تفصیلات کے حصول کے بغیر رجسٹریشن کی کارروائی انجام دینے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کے فیصلہ پر عمل آوری کا آج پہلا دن تھا لیکن عوام کو رجسٹریشن دفاتر سے مایوس لوٹنا پڑا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ آدھار کے بغیر رجسٹریشن سے متعلق سسٹم میں تبدیلی باقی ہے اور حکومت کی جانب سے رجسٹریشن دفاتر کو واضح طور پر احکامات وصول نہیں ہوئے ہیں ۔ رجسٹریشن کی رفتار تیز کرنے کیلئے حکومت نے پہلے سے سلاٹ بکنگ کے طریقہ کار کو منسوخ کردیا ، باوجود اس کے آج پہلے دن عوام اور رئیل اسٹیٹ شعبہ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایل آر ایس اسکیم رجسٹریشن میں اہم رکاوٹ بن چکی ہے۔ لے آوٹ منظورہ اراضیات کے رجسٹریشن کی درخواستوں کو قبول کیا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں کئی ہزار درخواستیں تعطل کا شکار ہیں ۔ تلنگانہ رئیلٹرس اسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رجسٹریشن کے لئے ایل آر ایس اسکیم سے استثنیٰ دیا جائے کیونکہ گزشتہ تین ماہ کے دوران پابندیوں کے نتیجہ میں کئی ہزار جائیدادوں اور اراضیات کے رجسٹریشن تعطل کا شکار ہیں۔ سسٹم میں ضروری تبدیلیاں نہیں کی گئیں جس کے نتیجہ میں رجسٹریشن دفاتر پر عوام کو عہدیداروں کے ساتھ بحث و تکرار کرتے دیکھا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف بعض پلاٹس اونرس کی درخواستوں کو رجسٹریشن کیلئے قبول کیا گیا جن کی اراضی ایل آر ایس سے منظورہ ہے۔ جائیدادوں کے رجسٹریشن کے سلسلہ میں رکاوٹوں کا سامنا بدستور قائم ہے۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ کے مطابق ایل آر ایس اسکیم کے لئے 20 لاکھ سے زائد درخواستیں زیر التواء ہیں اور حکومت رجسٹریشن کے لئے ایل آر ایس سے استثنیٰ دے گی تو ایسی صورت میں ہزاروں رجسٹریشن ہوں گے اور حکومت کو کروڑہا روپئے کی آمدنی ہوسکتی ہے ۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ نے دھرانی پورٹل کے استعمال کو بھی غیر ضروری قرار دیا ۔ اسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ ایک طرف حکومت نے نئی شرائط کے ساتھ دھرانی پورٹل متعارف کیا ہے ، دوسری طرف قدیم طریقہ کار کے تحت رجسٹریشن بحال کئے گئے، لہذا پورٹل کی اہمیت باقی نہیں رہی۔ ایل آر ایس کی منظوری سے متعلق شرط رئیل اسٹیٹ شعبہ کے لئے نقصان کا باعث بن چکی ہے۔ قدیم طریقہ کار کی بحالی کے باوجود جائیدادوں اور اراضیات کے رجسٹریشن کے خواہاں افراد کو کوئی راحت نہیں ملی جس کے نتیجہ میں رئیل اسٹیٹ شعبہ کی ترقی ممکن نہیں ہے ۔