سلاٹ بکنگ کی ضرورت نہیںہوگی ۔ سابقہ کارڈ طریقہ کار اختیار کیا جائیگا ۔ عوام کو مشکل سے بچانے فیصلے
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو نے آج ہدایت دی کہ غیر زرعی جائیدادوں و اراضیات کے رجسٹریشن کو 21 ڈسمبر سے ریاست کے تمام سب رجسٹرار دفاتر میں بحال کردیا جانا چاہئے اور اس کیلئے سلاٹ بکنگ پر اصرار نہیں کرنا چاہئے ۔ فی الحال رجسٹریشن کیلئے سابقہ کارڈ طریقہ کار کو ہی اختیار کیا جانا چائے ۔ کہا گیا ہے کہ چیف منسٹر نے عوام کو کسی طرح کی مشکلات اور پریشانیوں سے بچانے کیلئے یہ فیصلہ کیا ہے جبکہ ہائیکورٹ نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ رجسٹریشن کروانے والے فریقین کے آدھار کی تفصیلات پر اصرار کئے بغیر رجسٹریشن کی اجازت دی جائے ۔ اسی طرح اسٹامپس اور رجسٹریشن محکمہ کے دفاتر کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام ضروری اقدامات کرتے ہوئے رجسٹریشن کے عمل کو سہل اور تیز بنائیں۔ اس کام کیلئے مروجہ طریقہ کار اختیار کیا جائے اور عوام کو کسی طرح کی مشکلات سے بچایا جائے ۔ کہا گیا ہے کہ جو سلاٹ پہلے ہی سے بک کرلئے گئے تھے ان پر رجسٹریشنس مقررہ تاریخ اور وقت پر کئے جائیں گے ۔ حکومت کی جانب سے 11 ڈسمبر کو ہی غیر زرعی جائیدادوں اور اراضیات کے رجسٹریشن کا عمل شروع کردیا گیا تھا ۔ نئے طریقہ کار میں اس بات کی کوشش کی گئی کہ شفافیت میں اضافہ کیا جائے ۔ کسی بھی سطح پر کامل اختیارات نہ دئے جائیں اور 100 فیصد قبل از وقت سلاٹ بک لرلیا جائے ۔
یہ سلاٹ بکنگ کسی بھی مقام سے کسی بھی وقت کی جساکتی تھی ۔ ریاست میں غیر زرعی جائیدادوں اور اراضیات کے رجسٹریشن کا 14 ڈسمبر سے آغاز ہوا تھا اور جملہ 2,599 سلاٹس بک کئے گئے تھے ۔ ان میں 1,760 سلاٹس پر جائیدادوں کے رجسٹریشن ہو بھی چکے ہیں۔ سلاٹ بکنگ کا جو طریقہ کار حکومت کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا اس میںجملہ 23 طرح کی خدمات کو شامل کیا گیا تھا ان میںفروخت ‘ مارٹگیج ‘ گفٹ ‘ ڈیولپمنٹ اگریمنٹ ‘ جی پی اے وغیرہ بھی شامل تھے ۔ اس پر مزید پانچ طرح کی خدمات فراہم کرنے کا منصوبہ ہے ۔ اس سلسلہ میں چیف سکریٹری کا 16 ڈسمبر کو بینکرس کے ساتھ بھی اجلاس منعقد ہوا تھا اور بینکرس نے حکومت کے مروجہ طریقہ کار پر مسرت کا اظہار کیا تھا اور اصلاحات کے تئیں اپنی مدد کا تیقن بھی دیا تھا ۔ علاوہ ازیں بلڈرس اور ڈیولپرس کے ساتھ 17 ڈسمبر کو مری چنا ریڈی فروغ انسانی وسائل انسٹی ٹیوٹ میں ایک ورکشاپ بھی منعقد کیا گیا تھا ۔ اس ورکشاپ کے شرکاء کا رد عمل بھی مثبت رہا تھا ۔ تاہم ہائیکورٹ نے 17 ڈسمبر کو اپنے حکمنا مہ میں رجسٹریشن کیلئے قبل از وقت لازمی سلاٹ بکنگ پر حکم التواء جاری کردیا تھا اور آدھار تفصیلات کے حصول کے بغیر رجسٹریشنس کی اجازت دینے کی اجازت دی تھی ۔ ہائیکورٹ احکامات کے پیش نظر غیر زرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن کے عمل کو کچھ وقت کیلئے التواء میں رکھا گیا تھا ۔رجسٹریشن کیلئے جو سلاٹ پہلے سے بک کرلئے گئے تھے ان پر مقرر وقت اور تاریخ پر رجسٹریشن مکمل کرلیا جائے گا ۔
