مجلس بلدیہ حیدرآباد کو ناگوارہ، میئر کا فیصلہ غیر جمہوری، خالدہ پروین و دیگر کا ردعمل
حیدرآباد۔23اپریل(سیاست نیوز) راشن اور غریبوں میں تیار غذاء کی تقسیم سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو کیا تکلیف ہے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا جا رہاہے کیونکہ غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے انجام دی جانے والی ان خدمات کی قومی سطح پر سراہنا کی جا رہی ہے لیکن مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے غیر سرکاری تنظیموں کو جاری کئے گئے پاسیس غیر کارکرد قرار دیتے ہوئے ان کی سرگرمیو ںکو روکنے کے اقدامات کئے جانے کے اعلانا ت کئے جا رہے ہیں۔ دونوں شہر وں حیدرآباد و سکندرآباد میں خدمات انجام دینے والی غیر سرکاری تنظیموں کے ذمہ داروں کی جانب سے مئیر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر بی رام موہن کی جانب سے کئے جانے والے فیصلوں کو غیر جمہوری اور ظالمانہ قرار دیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ شہر حیدرآباد میں ضرورتمندوں کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے جی ایچ ایم سی کی جانب سے جو کھانے کی سربراہی عمل میں لائی جا رہی ہے وہ کافی نہیں ہے اور ان حالات میں مئیر جی ایچ ایم سی کو غیر سرکاری تنظیموں کی کارکردگی کی ستائش کرنی چاہئے کہ یہ تنظیمیں حکومت کی مدد کر رہی ہیں اور غریب عوام تک کھانا پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی ان کچن کو بند کرنے کے احکام دے رہا ہے جو غریبوں تک غذائی پیاکٹس پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریاست میں این آر سی‘ این پی آر اور سی اے اے کے خلاف احتجاج میں شامل بیشتر تمام تنظیموں کی جانب سے لاک ڈاؤن کی اس مصیبت کے دوران شہریو ںکی بلا امتیاز مذہب و ملت مدد کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیںا وردونوں شہر وں میں زیادہ تر مسلم تنظیموں کی جانب سے یہ کام انجام دیا جا رہاہے ۔ ضلع کلکٹر کے دفتر کے عہدیداروں کی جانب سے ان تنظیموں اور اداروںکی ستائش کی جا رہی ہے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ان تنظیموں کی سرگرمیوں کو بند کرتے ہوئے اسے پولیس یا بلدیہ کے ذریعہ انجام دینے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہاہے جس کے سبب یہ تنظیمیں مجبوری کی حالت میں اپنی جانب سے جاری خدمات کو بند کرنے کے متعلق غور کر رہے ہیں۔ محترمہ خالدہ پروین نے بتایا کہ جو لوگ غذاء کی فراہمی کے اقدامات کر رہے ہیں وہ حکومت سے کوئی مدد طلب نہیں کر رہے ہیںبلکہ شہر حیدرآباد میں سربراہی کی اجازت کے ہی طلبگار ہیں اسی لئے اس طرح کے احکامات جاری کرنے کے بجائے مئیر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو غیر سرکاری تنظیموں کے ذمہ داروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے ان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہئے ۔ جناب محمد فاروق نے بتایا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے جو احکامات جاری کئے جا رہے ہیں وہ ناقابل فہم ہیں اگر مئیر جی ایچ ایم سی کو ان سرگرمیوں پر اعتراض ہے تو وہ یہ دلیل پیش کریں کہ انہیں اعتراض کس بات پر ہے کیونکہ بلاوجہ اس طرح کے احکامات سے غریب عوام کورونا سے نہیں بلکہ بھوک سے مر جائیں گے‘ انہو ںنے بتایا کہ جی ایچ ایم سی کو چاہئے کہ وہ غیر سرکاری تنظیموں کے لئے رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو بھوکے ہیں ان تک کھانا پہنچ سکے۔ جناب ایس کیو مسعود نے مسٹر بی رام موہن کی جانب سے کئے گئے فیصلہ پر حکومت سے وضاحت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ومرکزی حکومت کی جانب سے غریبوں کا خیال رکھنے کی تاکید اور اپیل کی جا رہی ہے لیکن حیدرآباد میں مئیر جی ایچ ایم سی کی جانب سے اس طرح کے احکام جاری کئے جا رہے ہیں کہ جو کام کررہے ہیں انہیں روک دیا جا رہاہے۔محترمہ ماریہ تبسم نے بتایا کہ ابتداء میں راشن کی تقسیم کے لئے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کی جانب سے غیر سرکاری تنظیموں کو اجناس کی فروخت کا اعلان کیا گیا تھا اور کئی تنظیموں نے ایف سی آئی سے اجناس خریدے ہیں لیکن اب مئیر کی جانب سے یہ کہا جا رہاہے کہ راشن کی تقسیم کی اجازت نہیں دی جاسکتی جو راشن خریدا گیا ہے وہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حوالہ کیا جائے یہ سراسر ناانصافی ہے کیونکہ ایسا کوئی رضاکارانہ تنظیم نہیں کرے گی ۔