غیر علامتی ذیابیطس کے مریضوں میں ریکارڈ اضافہ

   

غذا میں احتیاط اور چہل قدمی کے ذریعہ طویل مدتی نقصانات سے محفوظ رہنا ممکن
حیدرآباد۔30جولائی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد ملک بھر میں مختلف تفریحی و سیاحتی مقامات کے لئے مشہور ہے اس کے علاوہ کئی امور ایسے ہیں جن کی وجہ سے حیدرآباد مثبت انداز میں دنیا بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے لیکن شہر حیدرآباد ذیابیطس کے معاملہ میں دنیا بھر میں اپنی منفی شناخت بناتارہا ہے اور چند برس قبل حیدرآباد کو ہندستان میں ذیابیطس کا مرکز بھی قرار دیا جاچکا تھا لیکن فی الحال ایک خوش آئند تبدیلی ریکارڈکی گئی ہے اور یہ مرکز حیدرآباد سے تبدیل ہوتے ہوئے بنگلورو پہنچ گیا اور اب ہندستان میں سب سے زیادہ ذیابیطس کے مریض بنگلورو میں پائے جاتے ہیں لیکن کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری لہر کے بعد شہر حیدرآباد ایک اور منفی وجہ کی بنیاد پر شہرت حاصل کرنے لگا ہے جس میں یہ کہا جا رہاہے کہ شہر حیدرآباد میں آثار کے بغیر ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ مریضوں میں ذیابیطس یعنی شوگر کی کوئی علامات نہیں پائی جا رہی ہیں لیکن جب ان کے دیگر علاج کیلئے خون کے نمونوں کی جانچ کی جا رہی ہے اور خون میں گلوکوز کا معائنہ کیا جا رہاہے تو اس بات کا انکشاف ہونے لگا ہے کہ وہ شوگر کے مرض میں مبتلاء ہوچکے ہیں۔ ماہرین ذیابیطس کا کہناہے کہ اس طرح کی ذیابیطس مستقل نہیں ہوتی بلکہ غذاء میں احتیاط کے ذریعہ اس ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے اور معمولی ادویات کے استعمال کے ساتھ اسے دور کرنے میں کافی مدد حاصل ہوتی ہے لیکن مریض کو اپنی شوگر قابو میں رکھنے کے لئے غذا میں احتیاط کے ساتھ عادات واطوار میں بھی تبدیلی لانی پڑتی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری لہر کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے کئی شہریوں نے اپنے معائنوں کے علاوہ ڈاکٹروں کے ذریعہ جانچ کروانی شروع کی ہے اور ان طبی معائنوں کے دوران اس بات کا انکشاف ہونے لگا ہے کہ غیر علامتی اور بغیر کسی آثار کے ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور اس اضافہ پر قابو پانے کیلئے شہریوں بالخصوص نوجوانوں کو غذاء کے ساتھ ساتھ عادات و اطوار میں تبدیلی لاتے ہوئے اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ روزانہ کسی بھی صورت میں ورزش کے لئے وقت نکالیں اور معمولی ہی صحیح محنت اور ورزش کو یقینی بنائیں علاوہ ازیں چہل قدمی کو معمول بنایا جائے تاکہ وہ ذیابیطس کے طویل مدتی نقصانات سے محفوظ رہ سکیں ۔ مابعد کورونا وائرس ذیابیطس کا شکار ہونے والے مریضوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں اسی لئے جو مریض کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے انہیں بھی صحتمند غذاء کے استعمال پر توجہ دینی چاہئے ۔