سنبھل عدالت کے فیصلہ پرغیر مجاز حصہ کو توڑ کر مسجد کمیٹی نے انتہا پسندوں کے منہ پر تالا لگا دیا
لکھنو ۔4؍جنوری ( ایجنسیز )اترپردیش میں سنبھل ضلع کے سلیم پور سالار عرف حاجی پور گاؤں میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی قرار دی گئی مسجد پراتوار کے روز بلڈوز کارروائی کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا مگرمسجد انتظامیہ کمیٹی نے بڑا قدم اُٹھاتے ہوئے خود ہی غیر مجاز حصہ کو توڑ کر انتہا پسندوں کے منہ پر تالا لگا دیا۔ مسجد انتظامیہ کے لوگوں نے کل رات تقریباً 12 بجے کے بعد 439 مربع میٹر پر محیط مدینہ مسجد کے حصہ کو شہید کرنے کی کارروائی انجام دی۔کہا جارہا ہے کہ اتوار کے روز تحصیلداردھیریندر پرتاپ سنگھ کی قیادت میں31 ریونیو اہلکاروں کی ٹیم اور پولیس کی بھاری نفری صبح 10 بجے جائے وقوعہ پر پہنچنے والی تھی لیکن اس سے پہلے ہی گرام سماج کی جگہ پر ناجائز تعمیرات کو زمیں دوز کردیا گیا۔ یہ کارروائی 2018 سے جاری قانونی عمل اور سرکاری اراضی پرغیر قانونی قبضہ کی تصدیق کے بعد کی گئی ہے۔انتظامیہ نے تجاوزات ہٹانے کے لیے 4 جنوری کی تاریخ مقرر کی تھی۔ اس فیصلے سے علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ مگر مسجد کمیٹی کے ذمہ داروں نے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ قدم اُٹھایا اورغیرقانونی بتائی گئی تعمیرات کو زمیں دوز کردیا۔ گزشتہ رات 12 بجے شروع ہوئی انہدامی کارروائی اتوار کی صبح مکمل ہوئی۔ اس سلسلے میں تحصیلدار نے کہا کہ اگر لوگ خود تجاوزات ہٹا رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔یہ پورا معاملہ ایچوڑا کمبوہ تھانہ علاقے کا ہے۔ تحصیلدار دھیریندر پرتاپ سنگھ کے مطابق متولی حاجی شمیم پر 439 مربع میٹر سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ کرکے مسجد بنانے کا الزام تھا۔ 14 جون 2018 کو درج رپورٹ کے بعد تحصیلدار کی عدالت میں برسوں تک سماعت جاری رہی۔ عدالت نے شواہد کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد اراضی کو سرکاری قرار دیتے ہوئے متولی کو بے دخل کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔انتظامیہ نے غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کیلئے بڑے پیمانے پر تیاریاں کر رکھی تھیں۔ کئی تھانوں کی پولیس، پی اے سی اور آر آر ایف کی کمپنی، لیکھ پال اور قانون گو کی ٹیم موقع پر تعینات تھی۔ 3 بلڈوزر بھی تیار رکھے گئے تھے لیکن مسجد کمیٹی نے از خود کارروائی کی۔
