غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کیلئے بی آر ایس اسکیم متعارف کرنے پر حکومت کا غور

   


حکومت نئے درخواستیں قبول کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ ہائی کورٹ میں زیر التواء معاملہ آخری مراحل میں پہونچ گیا
حیدرآباد :۔ ریاست میں غیر مجاز اور غیر قانونی طور پر تعمیر کردہ عمارتوں کو باقاعدہ بنانے کے لیے آخری موقع فراہم کرنے کا تلنگانہ حکومت سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے ۔ ( بی آر ایس ) اسکیم کو متعارف کراتے ہوئے نئے درخواستیں قبول کرنے کا جائزہ لے رہی ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد حکومت نے 31 اکٹوبر 2015 کو بی آر ایس اسکیم متعارف کراتے ہوئے 145 نمبر جی او کی اجرائی عمل میں لائی تھی ۔ مفاد عامہ درخواست داخل کرتے ہوئے اس کو چیلنج کیا گیا تھا ۔ جو پانچ سال سے ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے ۔ اس کیس کا معاملہ آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے بہت جلد فیصلہ آنے کا امکان ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اس کیس میں فیصلہ مثبت برآمد ہونے کی صورت میں حکومت ایک اور نئی بی آر ایس اسکیم متعارف کراتے ہوئے درخواستیں قبول کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔ سال 2015-16 میں جو لوگ درخواستیں دینے سے قاصر تھے ۔ انہیں ایک اور موقع فراہم کرنے کے ساتھ اس کے بعد تعمیر کردہ غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کے لیے حیدرآباد کے عوام کے علاوہ بلڈرس کی جانب سے حکومت سے بار بار اپیل کی جارہی ہے ۔ بلڈنگ پلان کی خلاف ورزی کرنے اور اس کو باقاعدہ نہ بنانے پر شہر حیدرآباد میں ہزاروں فلیٹس فروخت نہیں ہوئے ۔ ایل آر ایس 2020 کے تحت غیر مجاز لے آوٹس اور پلاٹس کو باقاعدہ بنانے کے لیے 25 لاکھ سے زائد درخواستیں وصول ہوئی اور اس سے حکومت کو 20 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہونے کی توقع ہے ۔ نئی بی آر ایس اسکیم سے مزید بھاری آمدنی حاصل ہونے کے امکانات ہیں ۔ اسی فنڈز سے حیدرآباد کے علاوہ دوسرے شہروں میں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے پراجکٹ پر خرچ کرنے کا حکومت نے منصوبہ تیار کیا ہے ۔ غیر قانونی اور غیر مجاز کو باقاعدہ بنانے کے لیے حکومت نے سخت قواعد کے ساتھ گذشتہ سال اگست میں ایل آر ایس اسکیم متعارف کرایا ۔ اس طرح سخت قوانین کے ساتھ غیر مجاز تعمیرات اور عمارتوں کو باقاعدہ بنانے کا آخری موقع فراہم کرتے ہوئے نئی بی آر ایس اسکیم متعارف کرانے پر حکومت غور کررہی ہے ۔ سرکاری ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ قواعد ایل آر ایس کے طرز پر بی آر ایس کے لیے بھی سخت ترین ہوں گے ۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ باقاعدہ بنانے کی فیس ماضی سے کہیں زیادہ وصول کرنے کا بھی امکان ہے ۔۔