بلڈرس کی نیند حرام، عہدیداروں کو خوش کرنے کی کوشش، سیاسی سرپرستی پر کارروائی سے گریز
حیدرآباد۔19 ستمبر(سیاست نیوز) شہر میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآبادکی جانب سے غیر مجاز تعمیرات کے انہدام کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات نے ان بلڈرس کی نیندیں حرام کردی ہیں جنہوں نے بغیر اجازت نامہ حاصل کئے یا اجازت نامہ حاصل کرنے کے باوجود منظورہ اجازت نامہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیرات انجام دی ہیں۔ گذشتہ دنوں شہر حیدرآباد کے مرکزی علاقہ میں بلدیہ کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کے بعد اب پرانے شہر کے علاقوں میں بھی بلڈرس کی جانب سے اپنی تعمیرات کے تحفظ کیلئے کوششوں کا آغاز کیا جانے لگا ہے اور جی ایچ ایم سی کے شعبہ ٹاؤن پلاننگ کے عہدیدارو ںکو خوش کرتے ہوئے اپنی غیر مجاز عمارتوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں شعبہ ٹاؤن پلاننگ کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں کے بعد شہریوں کی جانب سے بھی فلیٹس اور مکانات کی خریدی کیلئے تعمیری اجازت نامہ کے متعلق دریافت کیا جانے لگا ہے۔ دونو ںشہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں اعلیٰ عہدیدارو ںکی جانب سے دی جانے والی ہدایات اور عدالت کے احکام کے بعد کی جانے والی ان کاروائیوں کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ انہدامی کاروائیوں کے ذریعہ بلدی عہدیداروں کی جانب سے منصوبہ کی خلاف ورزی کرنے والوں اور بغیر اجازت تعمیرات انجام دینے والوں کے خلاف کاروائی کی جار ہی ہے اور جن عمارتوں کی تعمیر کے لئے اجازت حاصل نہیں کی گئی ہے اس کے انہدام کیلئے کوئی نوٹس دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلڈرس کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہاہے کہ ٹاؤن پلاننگ کے عہدیداروں کی جانب سے سیاسی سرپرستی کے حامل بلڈرس اور ان عمارتوں کے خلاف کاروائی سے گریز کیا جارہا ہے جنہیں مقامی سیاسی قائدین کی سرپرستی حاصل ہے۔ بلدی عہدیداروں کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے انہیں جو ہدایات موصول ہوئی ہیں وہ ان کے مطابق خدمات انجام دے رہے ہیں۔عہدیدارو ںنے بتایا کہ جن مقامات پر بلدی قوانین کی خلاف ورزی کی شکایات موصول ہورہی ہیں ان تعمیرات کی مکمل تنقیح کی جا رہی ہے اس کے علاوہ بلدیہ کی جانب سے بھی نئی تعمیرات کے کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ ان کے منظورہ منصوبہ اور تعمیر کا جائزہ لیا جاسکے۔ بلدی کاروائیوں کے سلسلہ میں عوام کی جانب سے بھی الزام عائد کیا جا رہاہے کہ جن تعمیرات کے لئے معمول نہیں دیا جا رہا ہے ان تعمیرات کو منظم انداز میں منہدم کروایا جانے لگا ہے۔M