صرف نوٹس اجرائی کافی نہیں، غیر مجاز تعمیرات میں اضافے پر عدالت کا اظہار تشویش
حیدرآباد۔ 4 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسی تمام غیر مجاز تعمیرات کو فوری مہربند کردیں جن کے خلاف وجہ نمائی نوٹس جاری کی گئی۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے کہا کہ جہاں کہیں بھی بلڈنگ پرمیشن کے برخلاف تعمیرات انجام دی گئیں اور بلدیہ کی جانب سے وجہ نمائی نوٹس جاری کی گئی انہیں مزید تحقیقات تک فوری مہربند کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے غیر مجاز تمعیرات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ جی ایچ ایم سی کے احکامات کی خلاف ورزی کو توہین عدالت تصور کیا جائے گا۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے عدالت میں غیر مجاز تعمیرات سے متعلق درخواستوں میں اضافے کے پس منظر میں یہ احکامات جاری کئے۔ غیر مجاز تعمیرات کی صورت میں حکام کی جانب سے عدم کارروائی کی شکایت کی گئی۔ عدالت کا احساس ہے کہ جی ایچ ایم سی عہدیدار غیر مجاز تعمیرات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ بلڈنگ پرمیشن کے حصول کے بعد تین یا چار فلور غیر مجاز طور پر تعمیر کئے جارہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ بعض معاملات میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے وجہ نمائی نوٹس جاری کی گئی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہیں دراصل نوٹس کے جواب کا انتظار ہے۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے جی ایچ ایم سی کو ہدایت دی کہ وہ تحقیقات کی تکمیل کا انتظار کئے بغیر غیر مجاز تعمیرات کو مہربند کردیں۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے جے رمیش کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی جس میں شکایت کی گئی کہ شیخ پیٹ کے علاقہ میں ہمہ منزلہ عمارت کی غیر مجاز تعمیرات کو روکنے میں بلدی حکام ناکام ہوچکے ہیں۔ عدالت نے ابتدائی مرحلہ میں تعمیرات کو روکنے میں تساہل پر ناراضگی جتائی۔ عدالت نے کہا کہ فوری کارروائی کے بغیر محض نوٹس جاری کرنے سے غیر مجاز فلورس کی تعمیر مکمل کرنے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ جسٹس ریڈی نے خلاف ورزی کی صورت میں غیر مجاز طور پر تعمیر کردہ عمارت کے فلورس کو مہربند کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے احکامات پر عمل آوری میں کسی بھی تساہل پر بلدی حکام کو انتباہ دیا۔ 1