چشم پوشی کرنے والے عہدیداروں کیخلاف بھی کارروائی متوقع
حیدرآباد۔7فروری(سیاست نیوز) دونوں شہر وںحیدرآباد و سکندرآباد کے حدود میں جاری غیر مجاز تعمیرات کی برخواستگی کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے خصوصی دستہ کی تشکیل کے سلسلہ میں اقدامات پر غور کیا جا رہاہے تاکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ان عہدیداروں کے خلاف بھی کاروائی کی جاسکے جو کہ غیر مجاز تعمیرات کے معاملہ میں چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے تعمیرات کے لئے راہ ہموار کررہے ہیں۔ شہر حیدرآباد میں غیر مجاز تعمیرات کے خاتمہ کے سلسلہ میں متعدد اقدامات کے باوجود شہر کے بیشتر علاقوں بالخصوص چارمینار زون میں جاری غیر مجازتعمیرات کے مسئلہ کو نظر انداز کرنے کے سلسلہ کو فوری بند کرنے کے اقدامات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے محکمہ بلدی نظم ونسق کی جانب سے شہر حیدرآباد میں غیر مجازتعمیرات کے متعلق موصول ہونے والی شکایات اور اس کے باوجود کاروائی نہ کئے جانے پر عدالت سے رجوع ہونے والوں کی تعداد میں ہورہے اضافہ کو دیکھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ شکایات کا جائزہ لینے اور ان کے خلاف کاروائی کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنانے کیلئے علحدہ دستہ تشکیل دیا جائے جو کہ ان عہدیدارو ںکے خلاف کاروائی کرے جو کہ شکایات کے موصول ہونے کے باوجود ان پر کاروائی نہ کرتے ہوئے شکایت کنندہ کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہر حیدرآباد میں غیر مجاز تعمیرات اور عدالت میں عہدیداروں بالخصوص مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے خلاف کی جانے والی شکایات کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کی جانب سے اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود تمام غیر مجاز عمارتوں کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے شکایت کنندگان سے رابطہ کرتے ہوئے حقائق سے آگہی کے سلسلہ میں کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جائے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں بلدی عہدیدارو ںکی جانب سے بلڈرس اور ڈیولپرس کے علاوہ سیاسی پشت پناہی کے حامل افراد کو غیر مجاز تعمیرات کا موقع دیئے جانے کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور اس سلسلہ میں بعض مقدمات عدالت میں بھی زیر دوراں ہیں اسی لئے حکومت نے تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ محکمہ بلدی نظم و نسق کی راست نگرانی میں ایک ٹیم تشکیل دیتے ہوئے غیر مجاز تعمیرات اور تعمیراتی بے قاعدگیوں کی شکایات کا جائزہ لیا جائے اور ان شکایات پر کاروائی نہ کرنے والے عہدیداروں کے خلاف کاروائی کی سفارش کا بھی اس کمیٹی کو اختیار دیا جائے ۔