غیر مجاز لے آؤٹس کا مشروط رجسٹریشن کرنے ہائی کورٹ کی ہدایت

   

5000 سے زائد درخواستوں کی سماعت، سپریم کورٹ کے فیصلہ تک مشروط رجسٹریشن جاری رکھیں
حیدرآباد۔/25 فروری، ( سیاست نیوز) غیر مجاز لے آؤٹس کے پلاٹس کے رجسٹریشن کے بارے میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے آج اہم فیصلہ سنایا ہے۔ ریاستی حکومت نے لے آؤٹ کے بغیر پلاٹس کے رجسٹریشن کو روکنے کیلئے 2020 میں احکامات جاری کئے تھے۔ محکمہ رجسٹریشن کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں 5000 سے زائد درخواستیں داخل کی گئیں۔ ہائی کورٹ نے بڑی تعداد میں درخواستوں کے ادخال پر عاجلانہ سماعت کرتے ہوئے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ غیر منظورہ لے آؤٹس پلاٹس کو شرائط کے ساتھ رجسٹریشن کرنے کی ہدایت دی گئی۔ محکمہ رجسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ میمو سے کسی تعلق کے بغیر پلاٹ کا رجسٹریشن کرنے ہائی کورٹ نے ہدایت دی ہے۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ خریداروں کو شرائط کے بارے میں پہلے سے واقف کرانا چاہیئے۔ رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے 2020 میں میمو جاری کرنے کے بعد گزشتہ سال ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی۔ عدالت نے نظام پیٹ میونسپلٹی کمشنر اور سب رجسٹرار کو غیر منظورہ لے آؤٹس کے پلاٹ رجسٹریشن کرنے کی ہدایت دی تھی۔ حکومت نے ہائی کورٹ کے احکامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جہاں یہ درخواست زیر التواء ہے۔ سپریم کورٹ میں فیصلہ تک تمام رجسٹریشن سپریم کورٹ کے قطعی فیصلہ کے تابع رہیں گے۔ اس کا تذکرہ دستاویزات کے دوسرے صفحہ پر کیا جانا چاہیئے۔ اس میں اراضی خریداروں کو واقف کرایا جائے۔ سب رجسٹرارس کو ہدایت دی گئی کہ وہ خریداروں کو اس موقف کی وضاحت کریں۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ریاست کے تمام سب رجسٹرار حکومت کی جانب سے جاری کردہ میمو سے کسی تعلق کے بغیر رجسٹریشن انجام دیں۔ ایف پی ایل، بفر زون اور 30 فیٹ کی سڑک ہے یا نہیں اس بارے میں خریداروں کو معلومات حاصل کرنی چاہیئے۔ اگر اراضی بفر زون، ایف ٹی ایل کے تحت نہ ہو اور 30 فیٹ کی سڑک موجود نہ ہو تو سب رجسٹرار عہدیداروں کو چاہیئے کہ وہ خریداروں کو حکومت کی شرائط سے واقف کرائیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہزاروں درخواستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے قطعی فیصلہ تک ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل کیا جائے۔ر