کورونا وائرس کے بعد سینکڑوں افراد ملازمتوں سے محروم
حیدرآباد۔بیرون ملک سے شہر حیدرآباد واپس ہونے والے ہندستانی شہریوں کی بازآبادکاری اور ان کے لئے فلاحی منصوبہ کی تیاری حکومت کی ذمہ داری ہے اورحکومت کو اس ذمہ داری سے فرار اختیار کرنے کے بجائے ان افراد کے روزگار کے متعلق منصوبہ کا اعلان کرنا چاہئے جو اب تک ملک کی معیشت کے استحکام میں اپنا کردار ادا کیا کرتے تھے ۔ریاستی حکومت کی جانب سے غیر مقیم ہندستانی جو ملازمتوں کے چلے جانے اور مختلف وجوہات کی بناء پر شہر واپس ہورہے ہیں ان کی بازآبادکاری کے سلسلہ میں اقدامات کی منصوبہ بندی کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کورونا وائر س کے سبب دنیا کے کئی ممالک کی حالت ابتر ہوتی چلی جا رہی ہے اور کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کی تعداد میں تخفیف کی جانے لگی ہے ۔کویت کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں خدمات انجام دینے والے ہندستانیوں کو ملک واپس کرنے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں اورکئی خانگی کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والوں کو بھی واپس روانہ کیا جانے لگا ہے جس کے سبب ہندستان میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ہندستان میں جنوبی ہند کی ریاستوں میں سب سے زیادہ ہندستانی شہری جو بیرون ملک ہیں ان کا تعلق کیرالہ سے ہے جبکہ اس کے بعد ریاست تلنگانہ کا نمبر آتا ہے جہاں سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد دنیا کے کئی ممالک میں آباد ہے۔کورونا وائرس کی وباء کے بعد دنیا کی معیشت کو لاحق خطرات کا جائزہ لیتے ہوئے کئی ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے مقامی افراد کو ملازمتوں کی فراہمی کی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو ترک ملازمت اور اپنے ملک کو واپس چلے جانے کی ہدایات جاری کی جانے لگی ہیں۔ غیر مقیم ہندستانی شہریوں کا کہناہے کہ ریاست تلنگانہ میں موجود این آر آئی سیل کو کارکرد بناتے ہوئے ان کی فلاح و بہبود کے اقدامات کئے جانے ضروری ہیں۔
