نئی دہلی۔27 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راہول جوہری نے کہا ہے کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کے بغیر آئی پی ایل کروانا ممکن نہیں ہے ۔کورونا وائرس کے خطرے کو دیکھتے ہوئے حکومت ہند نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا اور سفر پر پابندی لگا دی تھی جس کے بعد بی سی سی آئی نے اپریل میں آئی پی ایل کے 13 ویں سیزن کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا تھا۔ ایسی بھی بحث تھی کہ آئی پی ایل کو شائقین اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے بغیر منعقد کروایا جائے لیکن جوہری نے غیر ملکی کھلاڑیوں کے بغیر ٹورنمنٹ کروانے کے امکان کو مسترد کر دیا۔جوہری نے کہا کہ آئی پی ایل ایسا ٹورنمنٹ ہے جہاں دنیا بھر کے بہترین کھلاڑی آکر کھیلیں گے اور تمام لوگ اسے روایت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ حالات آہستہ آہستہ معمول پر ہوں گے ، آپ یہ نہیں سوچ سکتے کہ ایک دم سے چیزیں عام ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں حالات مکمل طور معمول ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ ہمیں حکومت کی ہدایات بھی دیکھنی ہوں گی ۔فی الحال ابھی تک ہوائی سفر پر پابندی ہے اور کچھ جگہ اس کی اجازت دی گئی ہے اور کھلاڑیوں کو کھیلنے سے پہلے قرنطینہ میں رہنے کے لئے کہا گیا ہے ۔اس طرح سے ٹورنمنٹ کے پروگرام میں اس کا بہت اثر پڑے گا۔اس دوران بی سی سی آئی نے ہندوستانی کھلاڑیوں کو یہ منتخب کرنے کی آزادی دے دی ہے کہ ملک میں کرکٹ شروع ہونے پر وہ کھیلنے کے لئے لوٹنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
جوہری نے کہا کہ کھلاڑیوں کی حفاظت بہت ضروری ہے ۔بورڈ اس سال مانسون اور حکومت سے اجازت ملنے کے بعد آئی پی ایل کروانے کے لئے پر امید ہے ۔جوہری نے کہا کہ ہر کھلاڑی کی حفاظت ضروری ہے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کا حق ہے اور لوگوں کو ان کے فیصلہ کا احترام کرنا چاہئے ۔اگرچہ ان کے مطابق آئی پی ایل کو منعقد کروانے کے بارے میں سوچنا اب جلدبازی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم فی الحال صورت حال پر نظر بنائے ہوئے ہیں۔ہم ہندوستانی حکومت اور ان کی ہدایات کی پیروی کریں گے ۔ہم اپنی طرف سے آگے نہیں بڑھنا چاہتے اور اس وجہ سے بی سی سی آئی نے کرکٹ کو اگلے حکم تک ملتوی کرنے کی جانب ہدایات جاری کی تھیں ۔ ہم مسلسل مختلف ایجنسی سے رابطہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مانسون کے بعد ستمبر کے آخر میں ہی کرکٹ شروع کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے ۔جوہری نے کہا کہ مانسون سیشن کے بعد ہی کرکٹ شروع کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے ۔یہی واحد راستہ ہے ، امید کرتا ہوں کہ اس وقت تک حالات میں بہتری آئے گی اور ہم ہدایات کے مطابق کوئی فیصلہ لینے کے موقف میں ہوں گے ۔