سروے میں اس بات کا پتہ چلا ہے کہ مناسب منصوبہ بندی اور تیاری کے بغیر لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں عام آدمی اور بالخصوص غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والوں کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
حیدرآباد کے بشمول کئی شہروں میں سروے،راشن شاپس سے اناج کی تقسیم میں بے قاعدگیاں، فاقہ کشی اور روزگار سے محرومی
حیدرآباد: ملک بھر میں کورونا وباء سے نمٹنے کیلئے مرکز نے مارچ کے مہینے سے لاک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا اور یہ سلسلہ جون تک جاری رہا۔ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں ملک کی معیشت زوال پذیر ہوئی تو دوسری طرف لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہوگئے۔ ہزاروں چھوٹی اور متوسط صنعتیں بند ہوگئیں اور تجارتی سرگرمیاں آج تک بحال نہیں ہوسکیں۔ عوام کو درپیش مشکلات کا جائزہ لینے کے لئے ہندوستان کے بعض اہم شہروں دہلی ، حیدرآباد ، جئے پور ، بھوپال میں سنٹر فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے سروے کیا گیا۔ سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ غیر منصوبہ بند لاک ڈاون کے نتیجہ میں عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ خاص طور پر غریب اور متوسط طبقات بری طرح متاثر ہوئے ۔ سنٹر فار پیس اسٹڈیز نے 500 سے زائد مسلم خاندانوں میں سروے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حکومت کو لاک ڈاون سے قبل عوام کو مسائل سے بچانے کیلئے منصوبہ بندی کرنی چاہئے تھی ۔ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں فاقہ کشی ، معاشی بحران اور صحت سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور یہ سلسلہ کئی ماہ تک جاری رہا۔ سروے میں حصہ لینے والے افراد کی اکثریت نے راشن کارڈس سے ناموں کے اخراج کی شکایت کی جس کے نتیجہ میں وہ لاک ڈاون کے دوران راشن حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ بائیو میٹرک سسٹم کے نتیجہ میں کئی افراد سرکاری راشن سے محروم رہے۔ بائیو میٹرک سسٹم میں استفادہ کنندگان کو اپنے انگوٹھے کا نشان پیش کرتے ہوئے اپنے نام کی موجودگی کی تصدیق کرنا ہوتا ہے۔ راشن شاپس پر اس ٹیکنک کو اختیار کیا گیا جس کے نتیجہ میں کئی خاندان سرکاری اناج سے محروم رہے اور انہیں رضاکارانہ تنظیموںکی امداد پر بھروسہ کرنا پڑا۔ عوام نے شکایت کی کہ نئے راشن کارڈ کے سلسلہ میں ان کی درخواستیں طویل عرصہ سے حکومت کے پاس زیر التواء ہیں۔ راشن کارڈ کی اجرائی میں یکسانیت نہیں ہے۔ 30 فیصد افراد کو لاک ڈاؤن کے دوران کسی بھی گوشہ سے راشن حاصل نہیں ہوا۔ سروے کے مطابق راشن شاپس سے حکومت نے صرف چاول سربراہ کیا جبکہ دیگر اشیائے ضروریہ کی عدم سربراہی کے نتیجہ میں عوام کو اپنے خاندانوں کی کفالت میں مشکلات پیش آئیں۔ عوام نے شکایت کی کہ ناموں کے اخراج سے قبل کوئی نوٹس نہیں دی گئی۔ اسی دوران آر ٹی آئی سے حاصل کردہ تفصیلات کے مطابق 2013 سے آج تک ملک بھر میں 4.39 کروڑ بوگس راشن کارڈس منسوخ کئے گئے ہیں۔ مرکزی حکومت نے فیر پرائز شاپس کے ذریعہ چاول اور دیگر ضروری اشیاء کے علاوہ جن دھن اکاؤنٹ میں 500 روپئے کی امداد جمع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بیشتر خاندانوں کو یہ امداد نہیں ملی۔ سروے میں اس بات پر توجہ دی گئی کہ مسلم علاقوں میں غریب اور متوسط طبقات حکومت کے راشن سے محرومی کے نتیجہ میں اس قدر پریشان رہے ۔ سنٹر فار پیس اسٹڈیز کے کوآرڈینیٹر ایس کیو مقصود نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران عوام خاص طور پر مسلم خاندان غذا سے محروم رہے جو نیشنل فوڈ سیکوریٹی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے ۔ 2013 ء میں یہ قانون پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا تھا جس کے نتیجہ ہر شہری کو رعایتی شرحوں پر راشن کی سربراہی کو یقینی بنانا ہے۔ مرکز کی جانب سے غیر منصوبہ بند لاک ڈاون سے متعلق کئی سروے منظر عام پر آئے جس میں حکومت کی کوتاہیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے آج تک یہ اعتراف نہیں کیا کہ لاک ڈاؤن غیر منصوبہ بند تھا جس کے نتیجہ میں لاکھوں خاندان مصائب و مشکلات سے دوچار ہوئے ۔
