حکومت لینڈ بروکر کے رول میں، بھٹی وکرمارکا کا الزام
حیدرآباد: سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے فارما سٹی کے نام پر غریبوں اور کسانوں کی اراضیات کو جبراً حاصل کرلیا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ کے سی آر حکومت عوام کی بھلائی کے بجائے اراضیات کے ڈیلر کی حیثیت سے کام کر رہی ہے ۔ غریبوں اور کسانوں سے 20,000 ایکر اراضی جبراً حاصل کر کے فارما سٹی کے تحت مختلف کمپنیوں کو حوالے کردی گئیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تلنگانہ میں کانگریس برسر اقتدار آنے پر فارما سٹی کے قیام کا فیصلہ منسوخ کردیا جائے گا اور اراضی غریبوں اور کسانوں کو واپس کردی جائے گی ۔ بھٹی وکرمارکا نے فارما سٹی کے کسانوں سے ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ ہزاروں کسان اور دلت زرعی اراضی سے محروم ہوچکے ہیں۔ اندرا گاندھی دور حکومت میں غریبوں کو جو اراضی تقسیم کی گئی تھی، اسے جبراً حاصل کرلیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں اور کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے حکومت کارپوریٹ اداروں کیلئے کام کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی صنعتوں کے قیام کے خلاف نہیں ہے لیکن صنعتوں کیلئے غریبوں اور کسانوں کو اراضیات سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے مطالبہ کے باوجود کے سی آر متبادل اراضی یا پھر معاوضہ کی ادائیگی کیلئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فارما سٹی کے لئے اراضی سے محروم افراد کو انصاف دلانے تک کانگریس کی جدوجہد جاری رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میں دو لاکھ 60 ہزار ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کا چیف منسٹر نے اسمبلی میں اعلان کیا۔ کانگریس کی جانب سے چیلنج کیا گیا جس پر ایک لاکھ مکانات کا معائنہ کرانے کا فیصلہ ہوا۔ ریاستی وزراء کی موجودگی میں کانگریس قائدین کو 3428 ڈبل بیڈروم مکانات کا معائنہ کرایا گیا۔ دوسرے دن رنگا ریڈی اور ملکاجگیری اضلاع میں دورہ کی کوشش کی گئی ۔ کانگریس نے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ایک لاکھ مکانات کو ثابت کرنے کا چیلنج کیا جس پر ریاستی وزراء درمیان سے ہی واپس ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت بلدی انتخابات کے پیش نظر عوام کو گمراہ کر رہی ہے ۔ ڈبل بیڈروم اور دیگر وعدوں کے ذریعہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔