ہزاروں کروڑ کی بے قاعدگیاں کانگریس نے وعدوں پر عمل کیا، بھٹی وکرمارکا کی تقریر
حیدرآباد ۔ 8۔ مئی (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ فارم ہاؤز میں آرام کرتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کھمم ضلع کے رگھوناتھ پالیم نے میڈیکل کالج کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ عوام کی جانب سے مسترد کئے جانے کے بعد سے کے سی آر فارم ہاؤز تک محدود ہوچکے ہیں اور پارٹی کے دوبارہ اقتدار کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر فارم ہاؤز سے حکومت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ بھٹی وکرمارکا نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کے لئے جدوجہد کا دعویٰ کرتے ہوئے کے سی آر نے کروڑہا روپئے کی بے قاعدگیاں کی ہیں۔ کالیشورم پراجکٹ جس کی تعمیر میں نقائص کا پتہ چلا ہے، اس کے لئے کئی ہزار کروڑ کی بے قاعدگی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں ایک ماہ بھی سرکاری ملازمین کو تنخواہ پہلی تاریخ کو ادا نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دیہی علاقوں میں بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کر رہی ہے۔ میڈیکل کالجس کے قیام سے سوپر اسپیشالیٹی سہولتوں کیلئے عوام کو اب حیدرآباد جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ کھمم میں بہتر طبی سہولتیں عوام بالخصوص غریبوں کیلئے دستیاب رہیں گی۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ کانگریس حکومت اعلیٰ طبقات کے مفادات کی تکمیل کیلئے نہیں بلکہ غریبوں کی خدمت کیلئے ہے ۔ حکومت نے 8 نئے میڈیکل کالجس کی عمارتوں کی تعمیر کا آغاز کیا ہے ۔ حکومت تعلیم اور صحت کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کیلئے جنم لینے کا دعویٰ کرنے والوں نے ہزاروں کروڑ روپئے کی لوٹ مچائی ۔ اسمبلی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے عوامی مسائل پیش کرنے کے بجائے کے سی آر فارم ہاؤز میں بیٹھ کر حکومت کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد غریبوں کیلئے آروگیہ شری کے تحت مفت علاج کی سہولت کو بڑھاکر 10 لاکھ روپئے کیا گیا ہے۔ بی آر ایس دور حکومت میں آروگیہ شری اسکیم کو نظر انداز کردیا گیا اور کانگریس حکومت نے 306 کروڑ اسکیم کیلئے جاری کئے ۔ اقامتی اسکولوں کو بی آر ایس دور حکومت میں بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا لیکن کانگریس حکومت انٹیگریٹیڈ اسکول کامپلکس تعمیر کر رہی ہے ۔ اندراماں ہاؤزنگ اسکیم پر 22500 کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں۔ ہر اسمبلی حلقہ میں 3500 مکانات منظور کئے گئے اور کسانوں کی قرض معافی کیلئے 22000 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ 1
غریبوں کو 200 یونٹ مفت برقی اور 500 روپئے میں گیاس سلینڈر سربراہ کیا جا رہا ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ عوام کی جانب سے مسترد کئے جانے کے بعد کے سی آر فارم ہاؤز میں آرام کرتے ہوئے کانگریس حکومت کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ 10 برسوں میں سرکاری جائیدادوں پر تقررات نہیں کئے گئے جبکہ کانگریس حکومت نے دیڑھ سال میں 60 ہزار جائیدادوں پر تقررات کئے ہیں۔ تلنگانہ کے معاشی بحران کیلئے کے سی آر کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ کے سی آر دور حکومت کے قرض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حکومت فلاحی اسکیمات پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے معاشی صورتحال کے بارے میں جو وضاحت کی ہے ، تلنگانہ عوام مطمئن ہیں۔1