کراچی ۔29 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے موجودہ اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے آن لائن سیشنز کا سلسلہ جاری ہے۔ سیشنز میں ماضی کے عظیم فاسٹ بولر وسیم اکرم نے فاسٹ بولروں کو کیریئر میں کامیابی کے گر سیکھائے۔اس موقع پر وسیم اکرم نے کہا کہ ایک فاسٹ بولر کے لیے ڈسپلن اور خود اعتمادی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کیرئیر کے مشکل وقت میں خوف کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھنا ہی کامیابی ہے۔وسیم اکرم نے ماضی کی کہانیاں سناتے ہوئے فاسٹ بولرز کو بتایا کہ وہ کبھی بھی کسی خاص کارکردگی پر مطمئن نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اچھے کھلاڑی کے لیے ہر دن نیا دن ہوتا ہے اور اسے ہر دن کے لیے ایک نئی حکمت عملی تیار کرنا ہوتی ہے۔وسیم اکرم نے کہا کہ طویل طرز کی کرکٹ ہی اصل کرکٹ ہے۔ عظیم کھلاڑی بننے کے لیے یہاں کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔ سابق ٹسٹ کرکٹر نے کہا کہ کرکٹ اعداد و شمار کا کھیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کیرئیر کے دوران اپنے اہداف ترتیب دیا کرتے تھے اور سب سے بڑا ہدف یہی تھا کہ کیا کرکٹ چھوڑنے کے بعد انہیں یاد کیا جائے گا؟ یا کیا مبصرین انہیں آل ٹائم ٹسٹ الیون میں شامل کریں گے؟۔ شاہین شاہ آفریدی کو ٹو ڈبلیوز کی کامیابی کی کہانی سناتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ فاسٹ بولرز میں مثبت رقابت ضروری ہے۔ اس سے کھیل میں نکھار آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقار یونس کے رن اپ سے بہت متاثر تھے۔ ان کی اسپیڈ سے دنیائے کرکٹ کے بڑے بڑے بیٹسمین ڈرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وقار یونس اور انہوں نے بڑی بڑی ٹیموں کے خلاف میچز کا پانسہ ایک دوسرے کی قابلیت پر اعتماد کرکے ہی بدلا تھا۔وہاب ریاض کے سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ وہ مشکل وقت میں خود کو چیلنج کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فاسٹ بولر کو میچ میں بدلتی صورتحال کے اعتبار سے حکمت عملی تبدیل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اچھا فاسٹ بولر وہی ہے جو اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کرتے ہوئے اپنی فیلڈنگ خود سجائے ۔