فاکس ساگر جھیل 128 سالہ قدیم، فن تعمیر کی خاموش یاد

   

ماضی میں دونوں شہروں کی آبرسانی میں اہم رول ادا کرنے والے آبی ذخیرہ کا اکثر حصہ قبضہ جات کی نذر، اب بھی دلکش نمونے باقی
حیدرآباد ۔ 12 جولائی (سیاست نیوز) جیڈی میٹلا میں گوداموں اور کارخانوں کے درمیان واقع حیدرآباد کے سب سے زیادہ نظرانداز کئے جانے والے ورثے کے مقامات میں فاکس ساگر جھیل بھی ہے۔ چھٹے نظام میر محبوب علی خان کے ذریعہ 1897 میں تعمیر کیا گیا یہ 128 سال قدیم آبی ذخائر صرف ایک ذخیرہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک پرانے دور کی خاموش یاد دہانی ہے جسے دوبارہ دریافت ہونے کا انتظار ہے۔ حیدرآباد کے شمالی حصے میں کومپلی کے قریب واقع یہ جھیل نیشنل ہائی وے 44 سے چند منٹ کے فاصلے پر واقع ہے لیکن اس کے باوجود شہر کے اوسط ایکسپلورر کیلئے کافی حد تک نامعلوم ہے۔ ان لوگوں کیلئے جو ہفتے کے آخر میں شہر کے حدود میں جاتے ہیں فاکس ساگر جھیل ایک منفرد تجربہ پیش کرتا ہے جو نوآبادیاتی دور کے فن تعمیر، ماضی کی کہانیوں اور غیرمتوقع قدرتی خوبصورتی کے لمحات کو یکجا کرتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ جیڈی میٹلہ چیرو یا کلاچیرو کے نام سے جانا جاتا تھا۔ فاکس ساگر اپنی تعمیر کے وقت حیدرآباد کی دوسری سب سے بڑی جھیل تھی۔ اس نے جڑواں شہروں حیدرآباد اور سکندرآباد کو پانی کی فراہمی میں اہم رول ادا کیا۔ آج یہ زیادہ تر حصہ تجاوزات اور کنکریٹ کے پھیلاؤ کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ یہاں کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک نظام دور کا پمپ ہاؤس ہے جو اب بھی بند پر کھڑا ہے۔ پتھر سے بنا اور کندہ کاری والا فاکس ساگر 1897 زنگ آلود ہے، کے پل سے رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ جسے فوٹوگرافرس اور تاریخ کے شائقین پسند کریں گے۔ یہ جھیل پرندوں کو دیکھنے والوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اگرچہ روایتی معنوں میں یہ سیاحتی مقام نہیں ہے۔ فاکس ساگر دریافت کا احساس پیش کرتا ہے۔ حالیہ سالوں میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے فاکس ساگر جھیل کو بحال کرنے کے منصوبے شروع کئے ہیں۔ تجاویز میں بندوں کی بحالی، واکنگ ٹریکس، گرین ایپس اور سیوریج کا بہتر انتظام شامل ہے۔ ماحولیاتی گروپوں نے بھی جھیل میں دلچسپی لی ہے۔ صفائی کی مہم اور سروے کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ حیاتیاتی تنوع کو دستاویز کیا جاسکے جو ابھی تک قائم ہے۔ تاہم تجاوزات اور آلودگی بدستور سنگین چیلنجز کا باعث ہیں۔ فی الحال فاکس ساگر ایک پرامن راستہ بنا ہوا ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں تاریخ پتھر کی دیواروں سے سرگوشی کرتی ہے اور ہجرت کرنے والے پرندوں کیلئے پریشان کن پانی ہیں۔ عوام کیلئے فاکس ساگر جھیل جو 128 سال پرانا ہے، عوام کی دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے۔ ش