فرانسسکا البانیز کو اپنے خلاف اسرائیلی زہرافشانی پر تشویش

   

نیویارک ۔ 27 فبروری (ایجنسیز) اقوام متحدہ کی فلسطینی علاقوں سے متلعق غیر جانبدار ماہر فرانسسکا البانیز نے جمعرات کے روز ان زہرافشانی کی مذمت کی ہے جو ان کی خانگی زندگی پر اسرائیل اور اس کے حامی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا ان کے خلاف یہ حملے ان کے کام اور زندگی دونوں کو متاثر کرنے والے ہیں۔اقوام متحدہ کی غیر جانبدار ماہر کا یہ بیان بعض یورپی ریاستوں کی طرف سے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے کہ فرانسسکا کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے کیونکہ انہوں نے اسرائیل پر کھلے لفظوں میں اور براہ راست تنقید کی ہے۔حالیہ ہفتوں کے دوران جرمنی، فرانس اور اٹلی نے البانیز کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے عہدے سے مستفی ہو کر گھر چلی جائیںفرانسسکا البانیز ایک اطالوی قانون دان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اسرائیل کے بارے میں خیالات کو سیاق و سباق سے الگ کر کے دیکھا گیا ہے۔البانیز نے کہا کہ میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ کس طرح مجھ پر ایسے افسوسناک حملے کیے گئے ہیں جو میری شخصیت اور میرے خاندان کے لیے سخت تکلیف اور نقصان کا باعث ہیں۔ پچھلے چند دن، چند ہفتے بلکہ چند مہینوں سے میں اس تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہی ہوں۔البانیز جو کہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی غیر جانبدار خصوصی ماہر ہیں نے ان خیالات کا اظہار اردن سے ویڈیو لنک پر صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔دریں اثناء￿ خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ نے ایک ایسا خط بھی دیکھا ہے جو اسرائیلی حکومت نے جنیوا میں اپنے مستقل مشن کو لکھا ہے۔خط میں البانیز کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ یہ خط 15 فروری کو لکھا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے جب سے ان کو اقوام متحدہ کی طرف سے اختیار دیا گیا ہے وہ اپنے رویے سے اقوام متحدہ کی ساکھ اور اخلاقی حیثیت کو کمزور کر رہی ہیں اور بار بار یہود مخالف گفتگو کرتی ہیں اور یہودیوں پر الزام لگاتی ہیں۔ البانیز اس اسرائیلی الزام کی تردید کرتی ہیں۔منگل کے روز جنیوا میں فرانسیسی مشن کے لیے نمائندے نے اس تشویش کا دوبارہ اظہار کیا جو فرانس کے وزیر خارجہ البانیز کے بارے میں اس سے پہلے بیان کر چکے تھے۔