یروشلم: اسرائیل کے وزیر بینی گینٹز نے کہا ہے کہ وہ فرانسیسی صدر عمانوئل میکرون سمیت دنیا بھر کی متعدد شخصیات کے خلاف اسرائیلی ’پیگاسس‘ پروگرام کے ذریعے جاسوسی کے الزامات کی انکوائری کرائیں گے۔عبرانی اخبار یدیعوت آحرونوت کے مطابق فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں گینٹز اور ان کے فرانسیسی ہم منصب فلورنس پارلی کے مابین ایک ملاقات ہوئی جس میں ان کا کہنا تھا کہ جاسوسی کے الزامات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل کی ایک ٹکنالوجی کمپنی کی طرف سے موبایل ایپ کی شکل میں ایک سافٹ ویئر تیار کیا گیا ہے جس کی مدد سے صحافیوں، اسرائیل کی مخالف شخصیات، مختلف ممالک کے صدور اور ریاستی رہ نماؤں کی جاسوسی کی اطلاعات ہیں۔ این ایس اوکمپنی کے ذریعہ تیار کردہ پیگاسس پروگرام کے استعمال کے الزامات کے بعد اسرائیل پرسخت دباوہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے دعوی کیا کہ فرانس میں ممتاز عہدیداروں کے فون ہیک کرنا ممنوع ہے۔ اسرائیلی کمپنی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ سرکردہ شخصیات کی جاسوسی کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگراسرائیل کو ان شرائط کی کوئی خلاف ورزی کا پتہ چلتا ہے تو، وہ جاری کردہ لائسنسوں کی شرائط کی تعمیل کی روشنی میں کام کرے گا۔گینٹز نے کہا کہ اس طرح کے پروگرامات کو کی صرف انسداد دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے وزیر دفاع پارلے کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے گینٹز کو بتایا کہ فرانس اسرائیل کی طرف سے جاسوسی کیالزامات کی تحقیقات کا منتظر ہے۔